قومی زبان

آخری بس

آخری بس تیرتی سی جا رہی ہے شب کی فرش مرمریں پر شبنم آگیں دھند کی نیلی گپھا میں بس کے اندر ہر کوئی بیٹھا ہے اپنا سر جھکائے خستگی دن کی چبائے کیا ہوئی اک دوسرے سے بات کرنے کی وہ راحت وہ مسرت آج دنیا آخری بس کی طرح محو سفر ہے سب مسافر قرب کے احساس سے نا آشنا بیٹھے ہوئے ہیں اب کسی کو ...

مزید پڑھیے

سیر شب لامکاں اور میں

سیر شب لامکاں اور میں ایک ہوئے رفتگاں اور میں سانس خلاؤں نے لی سینہ بھر پھیل گیا آسماں اور میں سر میں سلگتی ہوا تشنہ تر دم سے الجھتا دھواں اور میں اسم ابد کی تلاش طویل حسن شروع گماں اور میں میری فراوانیاں نو بہ نو اب ہے نشاط زیاں اور میں دونوں طرف جنگلوں کا سکوت شور بہت ...

مزید پڑھیے

میں چپ کھڑا تھا تعلق میں اختصار جو تھا

میں چپ کھڑا تھا تعلق میں اختصار جو تھا اسی نے بات بنائی وہ ہوشیار جو تھا پٹخ دیا کسی جھونکے نے لا کے منزل پر ہوا کے سر پہ کوئی دیر سے سوار جو تھا محبتیں نہ رہیں اس کے دل میں میرے لیے مگر وہ ملتا تھا ہنس کر کہ وضع دار جو تھا عجب غرور میں آ کر برس پڑا بادل کہ پھیلتا ہوا چاروں طرف ...

مزید پڑھیے

دل میں خوشبو سی اتر جاتی ہے سینے میں نور سا ڈھل جاتا ہے

دل میں خوشبو سی اتر جاتی ہے سینے میں نور سا ڈھل جاتا ہے خواب اک دیکھ رہا ہوتا ہوں پھر یہ منظر بھی بدل جاتا ہے چاہتا ہوں کہ میں اٹھ کر دیکھوں چھت سے آکاش کا منظر دیکھوں ابھی چھت تک ہی پہنچتی ہے آنکھ پاؤں زینے سے پھسل جاتا ہے خواب کی گم شدہ تعبیر ہوں میں اک عجب ضبط کی تصویر ہوں ...

مزید پڑھیے

عورت کتا اور پڑوس

اک حسیں سی عورت اپنے نرم چہرے کو مضطرب سا رکھتی ہے جس کے فقرے فقرے میں گونجتی ہے جھلاہٹ اپنے گھر کے آنگن میں جب ٹہلنے آتی ہے دور سے اگر کوئی دیکھ لے ذرا اس کو یا کوئی گزر جائے اس کے گھر کے آگے سے ناک بھوں چڑھاتی ہے اور بڑبڑاتی ہے لیکن اپنے کتے کو پیار سے بلاتی ہے اور لگا کے چھاتی ...

مزید پڑھیے

ہر جادۂ شہر

شہر کی اک اک سڑک پھانکتی آئی ہے لاکھوں حادثوں کی سرد دھول جانے کتنے اجنبی اک دوسرے کے دوست بننے سے کنارہ کر گئے اور کتنے آشناؤں کے دلوں سے مٹ گئی پہچان بھی سو نگاہیں لاکھ زخم چار سمتی لاکھ جھوٹ سو تماشوں کے پڑے ہیں جا بجا دھبے جنہیں گرد مسافت میں چھپانے کے لیے برق پا لمحوں کو ...

مزید پڑھیے

نفی سارے حسابوں کی

لپکتا سرخ امکاں جو مجھے آئندہ کی دہلیز پر لا کر کھڑا کرنے کی خواہش میں مچلتا ہے مرے ہاتھوں کو چھو کر مجھ سے کہتا ہے تمہاری انگلیوں میں خون کم کیوں ہے تمہارے ناخنوں میں زردیاں کس نے سجائی ہیں کلائی سے نکلتی ہڈیوں پر اون کم کیوں ہے میں اس سے ناتواں سی اک صدا میں پوچھتا ہوں اس سے ...

مزید پڑھیے

حرف غیر

میرے احباب میں اک شاعر کم نام بھی ہے ذہن ہے جس کا عجب راحت گاہ حادثے ایک زمانے کے جہاں آ کے سکوں پاتے ہیں جب چمک اٹھتے ہیں کچھ حادثے اظہار کی پیشانی پر وہ سمٹتا سا چلا جاتا ہے یعنی ہر نظم اسے اور بھی بیگانہ بنا دیتی ہے شب نئی نظم لیے بیٹھا تھا احباب کے بیچ اور سب ہمہ تن گوش اسے سنتے ...

مزید پڑھیے

میں اس کی بات کی تردید کرنے والا تھا

میں اس کی بات کی تردید کرنے والا تھا اک اور حادثہ مجھ پر گزرنے والا تھا کہیں سے آ گیا اک ابر درمیاں ورنہ مرے بدن میں یہ سورج اترنے والا تھا مجھے سنبھال لیا تیری ایک آہٹ نے سکوت شب کی طرح میں بکھرنے والا تھا عجیب لمحۂ کمزور سے میں گزرا ہوں تمام سلسلہ پل میں بکھرنے والا تھا میں ...

مزید پڑھیے

تجھے ذرا دکھ اور سسکنے والا میں

تجھے ذرا دکھ اور سسکنے والا میں تری اداسی دیکھ نہ سکنے والا میں ترے بدن میں چنگاری سی کیا شے ہے عکس ذرا سا اور چمکنے والا میں ترے لہو میں بیداری سی کیا شے ہے لمس ذرا سا اور مہکنے والا میں تری ادا میں پرکاری سی کیا شے ہے بات ذرا سی اور جھجکنے والا میں رنگوں کا اک باغ حسیں چہرہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1686 سے 6203