قومی زبان

پھر بہار آئی مرے صیاد کو پروا نہیں

پھر بہار آئی مرے صیاد کو پروا نہیں اڑ کے میں پہنچوں چمن میں کیا کروں پر وا نہیں جی جلا کر ایک بوسہ مانگتے ہیں بار سے آگے یا قسمت وہ دیکھیں ہاں کرے ہے یا نہیں حسرت و حرمان و یاس و حیرت رنج و تعب کیا کہوں اس ہجر میں کیا کیا ہے اور کیا کیا نہیں ہر کسی سے لگ چلے کیا ذکر ہے امکان کیا ہم ...

مزید پڑھیے

غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے (ردیف .. ')

غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے آ کے میرے روبرو تلوار چمکانے لگے جی میں کیا گزرا تھا کل جو آپ رکھ قبضہ پہ ہاتھ خوب سا گھورے مجھے اور تن کے بل کھانے لگے دل طلب مجھ سے کیا میں نے کہا حاضر نہیں یہ غضب دیکھو مچل کر پاؤں پھیلانے لگے قتل کر کر یہ نہیں معلوم کیا گزرا خیال دیکھ وہ ...

مزید پڑھیے

میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگ

میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگ تو مجھے کس کس طرح سے آ کے دھمکاتے ہیں لوگ ہاتھ کیا آتا ہے ان کے کچھ نہیں معلوم کیوں مجھ کو تم سے اور تم کو مجھ سے چھڑوانے ہیں لوگ ایک تو کچھ جی ہی جی میں رک رہے ہیں مجھ سے وہ دوسرے جا جا کے ان کو اور بھڑکاتے ہیں لوگ میرے ان کے صلح از بس خلق ...

مزید پڑھیے

تجھ کو آتی ہے دلاسے کی نہیں بات کوئی

تجھ کو آتی ہے دلاسے کی نہیں بات کوئی کس طرح تجھ سے رکھے جان ملاقات کوئی لگ چلے تجھ سے وہ کھانی ہو جسے لات کوئی ہاتھ کس طرح لگا دے تجھے ہیہات کوئی ڈر سے میں چپ ہوں ترے ورنہ بھری مجلس میں بات کرتا ہے کوئی تجھ سے اشارات کوئی مل گئے راہ میں کل وہ تو کہا رنگیںؔ نے کس طرح تم سے کرے اب ...

مزید پڑھیے

شعلہ شمیم زلف سے آگے بڑھا نہیں

شعلہ شمیم زلف سے آگے بڑھا نہیں صحرا کی جلتی ریت میں ٹھنڈی ہوا نہیں پیلے بدن میں نیلی رگیں سرد ہو گئیں خوں برف ہو گیا ہے کوئی راستہ نہیں اس کے مکاں کی چھت پہ سلگنے لگی ہے دھوپ کمرے سے اپنے رات کا ڈیرا اٹھا نہیں بادل لپٹ کے سو گئے سورج کے جسم سے دریا کے گھر میں آج بھی چولہا جلا ...

مزید پڑھیے

راہ میں قدموں سے جو لپٹی سفر کی دھول تھی

راہ میں قدموں سے جو لپٹی سفر کی دھول تھی تم نے آنکھوں میں جگہ دی یہ تمہاری بھول تھی عمر بھر لڑتا رہا جو وقت کی چٹان سے کل مرے کاندھے پہ اس کی لاش جیسے پھول تھی خیر ان باتوں میں کیا رکھا ہے قصہ ختم کر میں تجھے ہمدرد سمجھا تھا یہ میری بھول تھی دوستی کا حق نبھایا تیری خاطر لڑ ...

مزید پڑھیے

ہاں ابھی کچھ دیر پہلے شیر کی گونجی تھی دہاڑ

ہاں ابھی کچھ دیر پہلے شیر کی گونجی تھی دہاڑ اب تو سناٹا ہے شاید ہو چکی ہو چیر پھاڑ جسم سے پہرہ ہٹا یہ کھردری کھالیں ادھیڑ خون کی جھاڑو سے پھر ان ہڈیوں کی گرد جھاڑ ذہن میں جب کوئی شیریں کا تصور آ گیا سر پہ تیشوں کو اٹھائے دوڑتے آئے پہاڑ وحشتیں تاریکیاں رسوائیاں بربادیاں ہائے ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں کے درد سے رستا ہوا لہو

تنہائیوں کے درد سے رستا ہوا لہو دیوار و در اداس ہیں ہر شے ہے زرد رو خاموشیوں میں ڈوب گئی زندگی کی شام آواز دے کے جانے کہاں چھپ گیا ہے تو آنکھوں میں جاگتی ہی رہی نیند رات بھر چلتی رہی خیال کے صحرا میں گرم لو ساحل پہ ڈوبنے لگی آب رواں کی لو برپا تھا زرد ریت کا طوفان چار سو وادی ...

مزید پڑھیے

نفی

نہیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں تیرے سوا کچھ بھی نہیں یہ زمیں یہ آسماں یہ حضر یہ سائباں سارا جہاں کچھ بھی نہیں تیرے سوا اور میں تیرے سوا

مزید پڑھیے

خود شناسی

اس بستی میں مجھ سے بہتر لوگ بہت ہیں مجھ سے کمتر لوگ بہت لوگوں کی اس بھیڑ میں لیکن میرے جیسا کوئی نہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 1671 سے 6203