قومی زبان

تا حشر رہے یہ داغ دل کا

تا حشر رہے یہ داغ دل کا یارب نہ بجھے چراغ دل کا ہم سے بھی تنک مزاج ہے یہ پاتے ہی نہیں دماغ دل کا یاں آتش عشق سے شب و روز دہکے ہے پڑا ایاغ دل کا اس رشک چمن کی یاد میں ہے شاداب ہمیشہ باغ دل کا جینے کا مزا اسی کو ہے بس جس شخص کو ہو فراغ دل کا ہے بادۂ غم سے تیرے دن رات لبریز یہاں ایاغ ...

مزید پڑھیے

عشق سے بچ کے کدھر جائیں گے ہم

عشق سے بچ کے کدھر جائیں گے ہم ہے یہ موجود جدھر جائیں گے ہم تن کے بس رکھئے قبضہ پر ہاتھ دیکھیے مفت میں ڈر جائیں گے ہم تیری دہلیز پر اپنے سر کو ایک دن کاٹ کے دھر جائیں گے ہم وہ یہ کہتے ہیں نہ دے دل ہم کو دیکھ لیتے ہی مکر جائیں گے ہم منع کرتے ہو عبث یارو آج اس کے گھر جائیں گے پر ...

مزید پڑھیے

ہم جوں چکور غش ہیں اجی ایک یار پر

ہم جوں چکور غش ہیں اجی ایک یار پر بلبل کی طرح جی نہیں دیتے ہزار پر گر جی میں کچھ نہیں ہے تو دیکھے ہے کیوں مجھے انگلی کو پھیر پھیر کے تیغے کی دھار پر پا بوس یار کی ہمیں حسرت ہے اے نسیم آہستہ آئیو تو ہمارے مزار پر رخسار پر نمود ہوا خط خبر بھی ہے یعنی کمر کسی ہے خزاں نے بہار ...

مزید پڑھیے

کوئی سایہ نہ شجر یاد آیا

کوئی سایہ نہ شجر یاد آیا تھک گئے پاؤں تو گھر یاد آیا کھل اٹھے پھول سے صحراؤں میں پھر وہ فردوس نظر یاد آیا پھر مرے پاؤں میں زنجیر پڑی پھر ترا حکم سفر یاد آیا لوٹ جانے کو بہت دل مچلا کیا پس گرد سفر یاد آیا ساری امیدوں نے دم توڑ دیا نخل بے برگ و ثمر یاد آیا لاکھ چاہا تھا کہ وہ چشم ...

مزید پڑھیے

یہ وہم ہے میرا کہ حقیقت میں ملا ہے

یہ وہم ہے میرا کہ حقیقت میں ملا ہے خورشید مجھے وادئ ظلمت میں ملا ہے شامل مری تہذیب میں ہے حق کی حمایت انداز بغاوت کا وراثت میں ملا ہے تا عمر رفاقت کی قسم کھائی تھی جس نے بچھڑا ہے تو پھر مجھ کو قیامت میں ملا ہے رکتے ہی قدم پاؤں پکڑ لیں نہ مسائل ہر شخص اسی خوف سے عجلت میں ملا ...

مزید پڑھیے

آنکھ کھلی تو مجھ کو یہ ادراک ہوا

آنکھ کھلی تو مجھ کو یہ ادراک ہوا خواب نگر کا ہر منظر سفاک ہوا جسم و جان کا سارا قصہ پاک ہوا خاکی تھا میں خاک میں مل کر خاک ہوا مجھ پر شک کرنے سے پہلے دیکھ تو لے میرا دامن کس جانب سے چاک ہوا ایک ہی پل میں جا پہنچا دنیا سے پار ڈوبنے والا سب سے بڑا تیراک ہوا ٹکڑوں ٹکڑوں بانٹ رہا ہے ...

مزید پڑھیے

کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں

کچھ روز ابھی ہم زندہ ہیں کچھ روز اصولوں کی خاطر ہم دنیا سے لڑ سکتے ہیں پھر وقت کے ساتھ ہر شے میں تبدیلی آ جاتی ہے پتھر پر سبزہ اگتا ہے بالوں میں چاندی پکتی ہے غصہ کم ہو جاتا ہے بستی کے مہذب لوگوں میں ہم سنجیدہ کہلاتے ہیں

مزید پڑھیے

حاصل

کیا عجب کھیل ہے جو شخص قریب آتا ہے اپنے ہم راہ نئی دوریاں لے آتا ہے

مزید پڑھیے

چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئے

چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئے دوست دشمن ہو گئے اور اپنے بیگانے ہوئے پھر نئے سر سے یہ جی میں ہے کہ دل کو ڈھونڈیئے خاک کوچے کی ترے مدت ہوئی چھانے ہوئے تھا جہاں مے خانہ برپا اس جگہ مسجد بنی ٹوٹ کر مسجد کو پھر دیکھا تو بت خانے ہوئے ہے یہ دنیا جائے عبرت خاک سے انسان کی بن گئے ...

مزید پڑھیے

ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیں

ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیں میں تو جا سکتا ہوں واں گر یاں وہ آ سکتے نہیں شرم ہے ان کو بہت ہر دم چمٹنے سے مرے وہ تڑپتے ہیں ولیکن غل مچا سکتے نہیں ہاتھ میں ہے ہاتھ اور کوئی نہیں ہے آس پاس وہ تو ہیں قابو میں پر ہم جی چلا سکتے نہیں چودھویں ہے رات اور چھٹکی ہوئی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1670 سے 6203