قومی زبان

آنے کو نظر میں مری سو فتنہ گر آئے

آنے کو نظر میں مری سو فتنہ گر آئے تجھ سا نظر آیا ہے نہ تجھ سا نظر آئے کھل جائے بھرم ضبط محبت کا نہ ان پر ڈرتا ہوں کہیں آنکھ میں آنسو نہ بھر آئے مے خانے پہ کیا ابر ہے چھایا ہوا یارب جلوے تری رحمت کے یہاں بھی نظر آئے کرتا ہوں دعائیں تو یہ آتی ہیں ندائیں تو ہو کسی قابل تو دعا میں اثر ...

مزید پڑھیے

نیچی نظروں سے نہ دیکھو سر محشر دیکھو

نیچی نظروں سے نہ دیکھو سر محشر دیکھو دادخواہوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو ہو کے شمشیر بکف سیر گھڑی بہر دیکھو مرنے والوں کی وفا تیغ کے جوہر دیکھو آہ کیسی کبھی شکوہ بھی تمہارا نہ کیا ایسے ہم ضبط محبت کے ہیں خوگر دیکھو وعدۂ حشر ہے پردہ بھی زمانے بھر سے کوئی دامن نہ پکڑ لے سر محشر ...

مزید پڑھیے

ان کی خلوت میں رساؔ بھی ہوگا

ان کی خلوت میں رساؔ بھی ہوگا کبھی یوں حکم خدا بھی ہوگا مجھ پہ جو تو نے ستم ڈھایا ہے کہیں دنیا میں ہوا بھی ہوگا صبر والوں کا بھی دن آئے گا ایک دن روز جزا بھی ہوگا آپ سا کوئی نہیں دنیا میں آپ نے یہ تو سنا بھی ہوگا محفل شعر میں ہو آئیں چلو آج سنتے ہیں رساؔ بھی ہوگا

مزید پڑھیے

عاشق کو تیرے لاکھ کوئی رہنما ملے

عاشق کو تیرے لاکھ کوئی رہنما ملے تیرا پتا ملا ہے نہ تیرا پتا ملے تم مجھ سے آ ملے کبھی دشمن سے جا ملے جب یہ مزاج ہے تو کوئی تم سے کیا ملے بعد فنا بھی خیر سے تنہا نہیں ہیں ہم بندوں سے چھٹ گئے تو فرشتوں میں آ ملے جب دیر میں یہ دیکھا کہ اپنا گزر نہیں کعبے کے جانے والوں میں مجبور جا ...

مزید پڑھیے

پی کے کر لیتا ہوں توبہ جب سے یہ دستور ہے

پی کے کر لیتا ہوں توبہ جب سے یہ دستور ہے دل بھی روشن ہے مرا منہ پر بھی میرے نور ہے آہ کرتا ہوں تو برہم کے لیے ہوتے ہو تم درد مندان محبت کا یہی دستور ہے غیر سے ملنے کے شکوے پر قیامت ڈھا گیا ان کا یہ کہنا کہ دل سے آدمی مجبور ہے میں سوال وصل کر کے اس ادا پر مٹ گیا ہنس کے فرمایا کہ یہ ...

مزید پڑھیے

کون سا عشق بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوا

کون سا عشق بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوا درد فرقت نہ ہوا غم نہ ہوا کیا نہ ہوا غیر نے بات تو کی بات تو پوچھی میری خیر سے تم کو تو اتنا بھی سلیقہ نہ ہوا محو حیرت ہیں تو دونوں ہیں تری محفل میں ہم سے پردا ہوا آئینے سے پردا نہ ہوا ان کی یہ خوبیٔ اخلاق کہ وعدہ تو کیا میری یہ شومیٔ تقدیر کہ ...

مزید پڑھیے

رساؔ کو دل میں رکھتے ہیں رساؔ کے جاننے والے

رساؔ کو دل میں رکھتے ہیں رساؔ کے جاننے والے وفا کی قدر کرتے ہیں وفا کے جاننے والے تری تیغ ادا کھنچتے ہی اپنی جان جاتی ہے قضا سے پہلے مرتے ہیں قضا کے جاننے والے بھری ہیں شوخیاں لاکھوں تری نیچی نگاہوں میں ہمیں ہیں کچھ تری شرم و حیا کے جاننے والے مری فریاد سن کر کچھ انہیں پروا ...

مزید پڑھیے

پاس اپنے اک جان ہے سائیں

پاس اپنے اک جان ہے سائیں باقی یہ دیوان ہے سائیں جس کا کوئی مول نہ گاہک کیسی یہ دوکان ہے سائیں آنسو اور پلک تک آئے آنسو اگنی بان ہے سائیں جوگی سے اور جگ کی باتیں جوگی کا اپمان ہے سائیں میں جھوٹا تو دنیا جھوٹی میرا یہ ایمان ہے سائیں جیسا ہوں جس حال میں ہوں میں اللہ کا احسان ہے ...

مزید پڑھیے

کچھ نہ کچھ سوچتے رہا کیجے

کچھ نہ کچھ سوچتے رہا کیجے آسماں دیکھتے رہا کیجے چار دیواریٔ عناصر میں کودتے پھاندتے رہا کیجے اس تحیر کے کارخانے میں انگلیاں کاٹتے رہا کیجے کھڑکیاں بے سبب نہیں ہوتیں تاکتے جھانکتے رہا کیجے راستے خواب بھی دکھاتے ہیں نیند میں جاگتے رہا کیجے فصل ایسی نہیں جوانی کی دیکھتے ...

مزید پڑھیے

میں نے سوچا تھا اس اجنبی شہر میں زندگی چلتے پھرتے گزر جائے گی

میں نے سوچا تھا اس اجنبی شہر میں زندگی چلتے پھرتے گزر جائے گی یہ مگر کیا خبر تھی تعاقب میں ہے ایک نادیدہ زنجیر ہمسائیگی یہ درختوں کے سائے جو چپ چاپ ہیں ہم محبت زدوں کے یہ ہم راز ہیں اب یہیں دیکھنا رات پچھلے پہر دو دھڑکتے دلوں کی صدا آئے گی غم کا سورج ڈھلا درد کا چاند بھی بجھ چلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1666 سے 6203