شعور و فکر سے آگے نکل بھی سکتا ہے
شعور و فکر سے آگے نکل بھی سکتا ہے مرا جنون ہواؤں پہ چل بھی سکتا ہے مرے گماں پہ اٹھاؤ نہ انگلیاں صاحب گماں یقیں میں یقیناً بدل بھی سکتا ہے پہاڑ اپنی قدامت پہ یوں نہ اترائیں ابھر گیا کوئی ذرہ نگل بھی سکتا ہے مرے لبوں پہ جمی برف سوچ کر چھونا تمہارے جسم کا آہن پگھل بھی سکتا ...