قومی زبان

سلسلہ در سلسلہ جزو ادا ہونا ہی تھا

سلسلہ در سلسلہ جزو ادا ہونا ہی تھا آخرش تیری نظر کا مدعا ہونا ہی تھا کو بہ کو صحرا بہ صحرا ہم سفر تھا اضطراب اک نیا محشر نیا اک حادثہ ہونا ہی تھا ڈس رہا تھا تیری یادوں کا مسلسل اژدہا لحظہ لحظہ فکر میں اک سانحہ ہونا ہی تھا ہاتھ اٹھے چشم تر تھی دل بھی تھا محو فغاں حاشیہ در حاشیہ ...

مزید پڑھیے

دشت میں دھوپ کی بھی کمی ہے کہاں

دشت میں دھوپ کی بھی کمی ہے کہاں پاؤں شل ہیں مگر بے بسی ہے کہاں لمس دشت بلا کی ہی سوغات ہے مرے اطراف میں بے حسی ہے کہاں خاک میں خاک ہوں بے مکاں بے نشاں میرا ملبوس تن خسروی ہے کہاں میرا سوز دروں مائل لطف ہو مجھ میں شعلہ فشاں وہ نمی ہے کہاں پھونک دے بڑھ کے جو تیرگی کا بدن میری ...

مزید پڑھیے

دور تک اک سراب دیکھا ہے

دور تک اک سراب دیکھا ہے وحشتوں کا شباب دیکھا ہے ضوفشاں کیوں ہیں دشت کے ذرے کیا کوئی ماہتاب دیکھا ہے بام و در پر ہے شعلگی رقصاں حسن کو بے نقاب دیکھا ہے نامہ بر ان سے بس یہی کہنا نیم جاں اک گلاب دیکھا ہے اب زمیں پر قدم نہیں ٹکتے آسماں پر عقاب دیکھا ہے میری نظروں میں بانکپن ...

مزید پڑھیے

ٹیک لگا کر بیٹھا ہوں میں جس بوڑھی دیوار کے ساتھ

ٹیک لگا کر بیٹھا ہوں میں جس بوڑھی دیوار کے ساتھ خوف ہے مجھ کو مٹ نہ جاؤں اس کے ہر آثار کے ساتھ غازہ پاؤڈر مل کر میں بھی آ جاتا ہوں سرخی میں بک جاتا ہے چہرہ میرا سستے سے اخبار کے ساتھ کیوں نہ بڑھ کر میں پی جاؤں تیرے نقلی سب تریاک پھر تو دھوکا کر نہ پائے بستی میں بیمار کے ...

مزید پڑھیے

وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گے

وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گے زیب قرطاس فقط یاس کے ہالے ہوں گے کھوجتا کیا ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے آ چراغوں میں لہو ڈال اجالے ہوں گے دشت میں جا کے ذرا دیکھ تو آئے کوئی ذرے ذرے نے مرے اشک سنبھالے ہوں گے یوں تو مقدور نہیں تجھ کو تری قسمت پر ہاں مگر تو نے کئی سکے اچھالے ...

مزید پڑھیے

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوں

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوں در و دیوار پر کچھ عکس نا دیدہ سجاتا ہوں مجھے صحرا نوردی راس آتی جا رہی ہے اب خرابات چمن میں لالہ و سوسن اگاتا ہوں مرے اس شوق سے دریا کنارے سب شناسا ہیں جہاں طوفاں ہو موجوں کا وہاں لنگر اٹھاتا ہوں تمہاری نغمہ‌ سنجی کی دکاں پر جو نہیں ملتا وہی ...

مزید پڑھیے

مجھ کو تیری چاہت زندہ رکھتی ہے

مجھ کو تیری چاہت زندہ رکھتی ہے اور تجھے یہ حالت زندہ رکھتی ہے ڈھو ڈھو کر ہر روز جسے تھک جاتا ہوں اس ساماں کی سنگت زندہ رکھتی ہے سورج نے تیزاب ہے چھڑکا شاخوں پر گلشن کو کیا رنگت زندہ رکھتی ہے چڑھتے سورج کی میں پوجا کرتا ہوں یار یہی اک خصلت زندہ رکھتی ہے چوم کے ہاتھوں کی ...

مزید پڑھیے

کوزہ گر دیکھ اگر چاک پہ آنا ہے مجھے

کوزہ گر دیکھ اگر چاک پہ آنا ہے مجھے پھر ترے ہاتھ سے ہر چاک سلانا ہے مجھے باندھ رکھے ہیں مرے پاؤں میں گھنگرو کس نے اپنی سر تال پہ اب کس نے نچانا ہے مجھے رات بھر دیکھتا آیا ہوں چراغوں کا دھواں صبح عاشور سے اب آنکھ ملانا ہے مجھے ہاتھ اٹھے نہ کوئی اب کے دعا کی خاطر ایک دیوار پس دار ...

مزید پڑھیے

اندھیروں سے الجھنے کی کوئی تدبیر کرنا ہے

اندھیروں سے الجھنے کی کوئی تدبیر کرنا ہے کوئی روزن کسی دیوار میں تسخیر کرنا ہے ذرا دیکھوں تو دم کتنا ہے اس باد مخالف میں سر دشت بلا اک گھر نیا تعمیر کرنا ہے نکل آیا ہے جو بیداد راہوں پر دل بے خود کوئی ناوک فگن آئے اسے نخچیر کرنا ہے سر دشت جنوں جو بے خودی کے پھول کھلتے ہیں انہیں ...

مزید پڑھیے

بے مروت ہیں تو واپس ہی اٹھا لے شب و روز

بے مروت ہیں تو واپس ہی اٹھا لے شب و روز مجھ کو بھاتے نہیں یہ تیرے نرالے شب و روز ایک امید کا تارہ ہے سر بام ابھی اس کی کرنوں سے ہی ہم نے ہیں اجالے شب و روز جو تری یاد کے سائے میں گزارے ہم نے ہیں وہی زیست کے انمول حوالے شب و روز دشت سے خاک اٹھا لایا تھا اجداد کی میں گھر میں رکھے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 164 سے 6203