قومی زبان

نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی

نظر کر تیز ہے تقدیر مٹی کی کہ پتھر کی بتوں کو دیکھ ہیں تصویر مٹی کی کہ پتھر کی کیا تو نے بتوں کو سجدہ آدم کو فرشتوں نے برہمن ہے سوا توقیر مٹی کی کہ پتھر کی میں پتلا سخت جانی کا ہوں یا گرد کدورت کا نہیں معلوم ہوں تصویر مٹی کی کہ پتھر کی غموں پر خاک ڈالوں میں کہ روکوں جوش وحشت ...

مزید پڑھیے

ٹھہر جاوید کے ارماں دل مضطر نکلتے ہیں

ٹھہر جاوید کے ارماں دل مضطر نکلتے ہیں کھڑے ہیں منتظر ہم گھر سے وہ باہر نکلتے ہیں اسیران کہن معتوب ہو ہو کر نکلتے ہیں کہ زنداں سے جنازے اٹھتے ہیں بستر نکلتے ہیں نہیں معلوم منہ سے دل جگر کیوں کر نکلتے ہیں ہم ان سے پوچھ لیں گے چھوڑ کے جو گھر نکلتے ہیں خبر لیتا نہیں غربت میں کوئی ...

مزید پڑھیے

دم رفتار جاناں یہ صدائے ناز آتی ہے

دم رفتار جاناں یہ صدائے ناز آتی ہے سنبھالیں سب دلوں کو پاؤں کی آواز آتی ہے صبا جو پر مرا اے باغباں لاتی ہے گلشن میں قفس سے ساتھ یاں تک حسرت پرواز آتی ہے ابھی جاؤ نہ یاراں قفس گلزار کی جانب ذرا ہم منتظر ہیں طاقت پرواز آتی ہے اثر یہ ہے کہ بلبل جب قفس میں کرتی ہے نالہ شکست رنگ گل کی ...

مزید پڑھیے

گردش چشم ہے پیمانے میں

گردش چشم ہے پیمانے میں تم گئے ہو کبھی میخانے میں ایک جلوہ سا نظر آتا ہے کوئی تو ہے مرے غم خانے میں یوں ہے سینے میں دل پر حسرت قبر جیسے کسی ویرانے میں ساز نیرنگ ہے میری زنجیر نئی آواز ہے ہر دانے میں دیکھ اے دل نہ مجھے چھوڑ کے جا فرق آ جائے گا یارانے میں جل کے عاشق ہوئے معشوق ...

مزید پڑھیے

ہے بے خود وصل میں دل ہجر میں مضطر سوا ہوگا

ہے بے خود وصل میں دل ہجر میں مضطر سوا ہوگا خوشی جس گھر کی ایسی ہے وہاں کا رنج کیا ہوگا ابھی تو یار سے کہنے کی دل میں باتیں ہیں لاکھوں نہ کچھ یاد آئے گا اس وقت جس دم سامنا ہوگا مرے مدفن کی مٹی کا وہ کھچوائیں گے عطر اکثر اگر بوئے وفا کا ان کے دل میں کچھ مزا ہوگا وہ گیسو بڑھتے جاتے ...

مزید پڑھیے

دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گا

دل ہمارا جانب زلف سیہ فام آئے گا یہ مسافر آج منزل پر سر شام آئے گا گو برا ہے دل مگر رہنے دیا ہے اس لئے عشق کی خوگر طبیعت ہے کبھی کام آئے گا عشق دل کامل نہیں دیکھو ابھی کھولو نہ زلف صید جب شہباز ہے کیوں کر نہ تہہ دام آئے گا قاصد مرگ آئے یا آئے تمہارا نامہ بر کہہ رہا ہے دل کہ کوئی آج ...

مزید پڑھیے

شروع اہل محبت کے امتحان ہوئے

شروع اہل محبت کے امتحان ہوئے اب ان کو ناز ہوا ہے کہ ہم جوان ہوئے سبھوں کی آ گئی پیری جو تم جوان ہوئے زمیں کا دل ہوا مٹی خم آسمان ہوئے غضب سے کم نہیں ہوتا وفور رحمت بھی میں ڈر گیا وہ زیادہ جو مہربان ہوئے ارے ذرا مرے دل سے یہ کوئی پوچھ آئے اسی طرح وہ خفا ہیں کہ مہربان ہوئے کھلا ...

مزید پڑھیے

آپ دل جا کر جو زخمی ہو تو مژگاں کیا کرے

آپ دل جا کر جو زخمی ہو تو مژگاں کیا کرے کوئی رکھ دے پاؤں خود خار مغیلاں کیا کرے رات دن ہے صنعت حق کس طرح بدلیں صنم روئے زیبا کیا کرے زلف پریشاں کیا کرے روح گھبرا کے چلی دیکھا جو ہم کو مضطرب میزباں ہو جب پریشاں رہ کے مہماں کیا کرے دم نہیں تن سے نکلتا کٹ چکا بالکل گلا سخت جانی کو ...

مزید پڑھیے

جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنے

جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنے جب اٹھے یہ غم کہ دل کا آئنہ پتھر بنے اب جو وہ بنوائیں گہنا یاد رکھنا گل فروش پھول بچ جائیں تو میری قبر کی چادر بنے بعد آرائش بلائیں کون لے گا میرے بعد یاد کرنا مجھ کو جب زلف پری پیکر بنے ہے تمہارے سامنے تو جان کا بچنا محال تم سے جب چھوٹیں تو ...

مزید پڑھیے

ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہے

ہے اندھیرا تو سمجھتا ہوں شب گیسو ہے بند آنکھیں ہیں کہ اے یار نظر میں تو ہے دم بہ دم کہتے ہو کیوں فکر میں ناحق تو ہے غم کو کیا کام مرا سر ہے مرا زانو ہے اس لیے دل کے طلب کرنے پہ میں روتا ہوں تر نہ ہو آپ کا دامن کہ یہ اک آنسو ہے آج پھر کل کی طرح ہجر کی رات آتی ہے دیکھیے کیا ہو وہی دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1648 سے 6203