قومی زبان

ہم ان کو حال دل اپنا سنائے جاتے ہیں

ہم ان کو حال دل اپنا سنائے جاتے ہیں وہ بیٹھے سنتے ہیں اور مسکرائے جاتے ہیں وہ بعد قتل بھی خنجر لگائے جاتے ہیں شہید ناز کی شوکت بڑھائے جاتے ہیں خموش محفل اعدا میں دور بیٹھے ہیں غضب ہے تو بھی وہ آنکھوں میں کھائے جاتے ہیں یہ انفعال ہے کس کس جفا گری کے عوض کہ بات بات میں وہ منہ ...

مزید پڑھیے

وصل اس سے نہ ہو وصال تو ہو

وصل اس سے نہ ہو وصال تو ہو کہیں قصے کو انفعال تو ہو نہ سہی لطف کچھ عتاب سہی اس کے دل میں مرا خیال تو ہو کیوں نہ تجھ کو حنا سے ہو رغبت یوں کوئی اور پائمال تو ہو مصلحت ہے طپیدگی دل کی مگر ان کو ادھر خیال تو ہو قول اپنا یہی ہے اے رونقؔ کوئی فن ہو مگر کمال تو ہو

مزید پڑھیے

عالم میں نہ کچھ کثرت انوار کو دیکھیں

عالم میں نہ کچھ کثرت انوار کو دیکھیں پردہ میں نظر باز رخ یار کو دیکھیں حیرت سے مرے دیکھنے کو دیکھتے ہیں کیا دیکھیں تو وہ اپنے لب و رخسار کو دیکھیں رہنے دیں مجھے گرم فغاں کوچے میں اپنے اپنی بھی وہ کچھ گرمئ بازار کو دیکھیں وہ اس سے زیادہ ہے تو یہ اس سے زیادہ گفتار سنیں اس کی کہ ...

مزید پڑھیے

کیا دیکھتے ہیں آپ جھجک کر شراب میں

کیا دیکھتے ہیں آپ جھجک کر شراب میں پیدا ہے عکس زلف معنبر شراب میں پرتو فگن ہے چشم فسوں گر شراب میں کیا مل گیا ہے فتنۂ محشر شراب میں بد مستیوں کے شوق نے طوفاں اٹھائے ہیں بیٹھے ہیں ہم بہائے ہوئے گھر شراب میں تر دامنوں کو آتش دوزخ سے ہے نجات جامہ ہے شور بور سراسر شراب میں بے یار ...

مزید پڑھیے

جس طرح اشک چشم تر سے گرے

جس طرح اشک چشم تر سے گرے یوں ہی ہم آپ کی نظر سے گرے بے تکلف گلے لگا لیں ہم کاش خنجر تری کمر سے گرے رخ سے ٹپکے جو قطر ہائے عرق پھول سے دامن سحر سے گرے نہ تو صیاد ہے نہ کنج قفس کہیں بجلی میں ابر تر سے گرے دیکھ کر شکل ان کی اے رونقؔ مہر و مہ بھی مری نظر سے گرے

مزید پڑھیے

تا بہ کے منزل بہ منزل ہم مسافر بھاگتے

تا بہ کے منزل بہ منزل ہم مسافر بھاگتے آنکھ اب ٹھہری ہوئی ہے اور مناظر بھاگتے اے حریف ہر قدم شہ مات سے بچنے کی سوچ اس بساط خاک سے کیا ہم سے شاطر بھاگتے ہم تو آئے ہیں یہاں مٹنے مٹانے کے لئے اس زمین کربلا سے کس کی خاطر بھاگتے بس میں آ جانے کا جذبہ بس میں کرنے کی ہوس خاک‌ و باد و آب ...

مزید پڑھیے

جنوں پسند حریف خرد تو ہم بھی ہیں

جنوں پسند حریف خرد تو ہم بھی ہیں عدو جو نیک نہیں ہے تو بد تو ہم بھی ہیں ہزار صفر سہی اک عدد تو ہم بھی ہیں تمہارے ساتھ ازل تا ابد تو ہم بھی ہیں اب اتنا ناز سمندر مزاجیوں پہ نہ کر کہ اپنے آپ میں اک جزر و مد تو ہم بھی ہیں ہمیں قبول کہاں کم سواد کرتے ہیں خراب مشغلۂ رد و کد تو ہم بھی ...

مزید پڑھیے

ہم اگر رد عمل اپنا دکھانے لگ جائیں

ہم اگر رد عمل اپنا دکھانے لگ جائیں ہر گھمنڈی کے یہاں ہوش ٹھکانے لگ جائیں خاکساروں سے کہو ہوش میں آنے لگ جائیں اس سے پہلے کہ وہ نظروں سے گرانے لگ جائیں دیکھنا ہم کہیں پھولے نہ سمانے لگ جائیں عندیہ جیسے ہی کچھ کچھ ترا پانے لگ جائیں پھول چہرے یہ سر راہ ستارہ آنکھیں شام ہوتے ہی ...

مزید پڑھیے

ان کے جانے سے یہ دل میں ہوئی صورت پیدا

ان کے جانے سے یہ دل میں ہوئی صورت پیدا کہ ہوا درد اور اس میں ہوئی شدت پیدا اس وفا پر یہ جفائیں تری سمجھے سمجھے کہ محبت ہی سے ہوتی ہے عداوت پیدا نرگس شوخ میں ترکیب حیا ہے پنہاں نگہ شرم سے ہے رنگ شرارت پیدا ہم جو دل سوز نہ ہوتے تو یہ حسرت آتی کہ ترے دل میں بھی ہو سوز محبت پیدا کوچۂ ...

مزید پڑھیے

دن کو ہاں کہہ دیا تو رات نہیں

دن کو ہاں کہہ دیا تو رات نہیں آپ کی بات کو ثبات نہیں ہجر میں دن تو کٹ ہی جاتا ہے نہیں کٹتی تو ایک رات نہیں کیوں نہ اخلاق سے بری ہو کلام شعر لکھتے ہیں کچھ لغات نہیں کیوں ہراساں ہوں میں دم مشکل کیا وہ حلال مشکلات نہیں ایک بوسہ کی عرض پر رونقؔ کہہ گیا یار پانچ سات نہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 1610 سے 6203