ہم ان کو حال دل اپنا سنائے جاتے ہیں
ہم ان کو حال دل اپنا سنائے جاتے ہیں وہ بیٹھے سنتے ہیں اور مسکرائے جاتے ہیں وہ بعد قتل بھی خنجر لگائے جاتے ہیں شہید ناز کی شوکت بڑھائے جاتے ہیں خموش محفل اعدا میں دور بیٹھے ہیں غضب ہے تو بھی وہ آنکھوں میں کھائے جاتے ہیں یہ انفعال ہے کس کس جفا گری کے عوض کہ بات بات میں وہ منہ ...