الفت نہ کروں گا اب کسی کی
الفت نہ کروں گا اب کسی کی دشمن ہوا جس سے دوستی کی حالت کہوں اپنی بے خودی کی دل دے کے سنو جو میرے جی کی اول اول بھلائیاں کیں آخر آخر بہت بری کی مصروف ہے سینہ کوبی میں دل آتی ہے صدا دھڑا دھڑی کی الفت پہ تیری خاتمہ ہے اب لے لے قسم تو عاشقی کی کرتے رہے اختراع آپھی تقلید نہ کی کبھی ...