قومی زبان

الفت نہ کروں گا اب کسی کی

الفت نہ کروں گا اب کسی کی دشمن ہوا جس سے دوستی کی حالت کہوں اپنی بے خودی کی دل دے کے سنو جو میرے جی کی اول اول بھلائیاں کیں آخر آخر بہت بری کی مصروف ہے سینہ کوبی میں دل آتی ہے صدا دھڑا دھڑی کی الفت پہ تیری خاتمہ ہے اب لے لے قسم تو عاشقی کی کرتے رہے اختراع آپھی تقلید نہ کی کبھی ...

مزید پڑھیے

زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے

زمانے میں وہ مہ لقا ایک ہے ہزاروں میں وہ دل ربا ایک ہے خداوند ارض و سما ایک ہے قسم ہے خدا کی خدا ایک ہے برابر ہے اپنا وجود و عدم ہماری بقا اور فنا ایک ہے عدم ابتدا ہے عدم انتہا مری ابتدا انتہا ایک ہے نہ ہوں گے یہ حادث رہے گا قدیم غرض سب ہیں فانی بقا ایک ہے ذرا غور سے مرأت دل کو ...

مزید پڑھیے

ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے

ہیں یہ سارے جیتے جی کے واسطے کون مرتا ہے کسی کے واسطے آدمی سہتا ہے کیا کیا ذلتیں نفس مردود شقی کے واسطے ہم بھی جائیں گے سلیماں تک کبھی عرض کرنے اک پری کے واسطے در بدر کوچوں میں ہم بھی پھر چکے ایک حسن خانگی کے واسطے کشت زار زعفراں سے کم نہیں رنگ زرد اپنا ہنسی کے واسطے کیوں دیے ...

مزید پڑھیے

چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے

چڑھی تیرے بیمار فرقت کو تب ہے بشدت قلق ہے نہایت تعب ہے مریض محبت ترا جاں بلب ہے تجاہل ستم ہے تغافل غضب ہے وہ آفت ہے آفت ہے آفت ہے آفت غضب ہے غضب ہے غضب ہے غضب ہے گلی یار کی ہے قدم رکھوں کیوں کر چلوں سر کے بل یاں مقام ادب ہے جو ابرو دکھایا تو عارض بھی دکھلا وہ قرآن ہے یہ ہلال رجب ...

مزید پڑھیے

صدمے گزرے ایذا گزری

صدمے گزرے ایذا گزری ہجر میں تیرے کیا کیا گزری ہجر میں جان رہی یا گزری رندؔ کہو تم پر کیا گزری کیا کہوں تجھ سے حال فرقت گزری جو کچھ جانا گزری الفت بت نے کر دیا کافر یہ کیا بار خدایا گزری آئے نہیں تم عرصہ گزرا منع کیا کس نے کیا گزری گزرے جس دم ہم دنیا سے ہم نے جانا دنیا گزری بحر ...

مزید پڑھیے

اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیز

اللہ کے بھی گھر سے ہے کوئے بتاں عزیز کعبہ سے بھی زیادہ ہے ہندوستاں عزیز یہ مشت خاک ہو کہیں مقبول‌ بارگاہ مٹی ہماری کر بھی چکے آسماں عزیز شکوے کی جائے غیر سے باقی نہیں رہی دشمن سے بھی زیادہ ہیں خوبان جاں عزیز ہستی عدم سے لائی ہے کس ملک غیر میں کوئی نہ آشنا ہے ہمارا نہ یاں ...

مزید پڑھیے

ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا

ساتوں فلک کیے تہ و بالا نکل گیا آخر شب فراق میں نالہ نکل گیا وحشت نے مجھ پہ عرصۂ ہستی کیا جو تنگ گھبرا کے سوئے عالم بالا نکل گیا سر دے دے باد گیسوئے جاناں کی چاہ میں پیٹا کرو لکیر کو کالا نکل گیا یعقوب وار روتا میں اس بت کے ہجر میں یوسف مرا خدائے تعالیٰ نکل گیا فرقت میں اس کی ...

مزید پڑھیے

سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا

سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا ہنس کے بولے شاہ صاحب کس طرف آنا ہوا ٹوٹے بت مسجد بنی مسمار بت خانہ ہوا جب تو اک صورت بھی تھی اب صاف ویرانہ ہوا ہر جگہ موجود سمجھا اس کو سجدہ کر لیا خواہ مسجد خواہ گرجا خواہ بت خانہ ہوا باز رکھتی ہے ہمیں خدمت سے ازخود رفتگی آن نکلیں گے کبھی گر ...

مزید پڑھیے

کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے

کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے گاتے ہیں راگ مرغ خوش الحاں نئے نئے شاعر نئے نئے ہیں سخنداں نئے نئے پیدا ہوئے ہیں اب تو غزل خواں نئے نئے دلبر متاع دل کے ہیں خواہاں نئے نئے کرتا ہے حسن عشق کے ساماں نئے نئے آسیب عشق سر سے اترتا نہیں مرے لکھتا ہے نقش روز پری خواں نئے نئے بہکا کے ...

مزید پڑھیے

کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد

کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد میں ماجرائے چمن کیا کروں بیاں صیاد دکھائے گا نہ اگر سیر بوستاں صیاد پھڑک پھڑک کے قفس ہی میں دوں گا جاں صیاد جہاں گیا میں گیا لے کے دام واں صیاد پھرا تلاش میں میری کہاں کہاں صیاد دکھایا کنج قفس مجھ کو آب و دانہ نے وگرنہ دام کہاں میں کہاں کہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1549 سے 6203