قومی زبان

مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی

مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی بھر دے چلو میں جو ہو شیشے میں باقی ساقی بھر کے پلواتا نہیں ایک پیالی ساقی ساری میں مانگتا ہوں دیتا ہے آدھی ساقی تو نے کیا آتش حل کردہ پلا دی ساقی بھون ڈالا ہے جگر آگ لگا دی ساقی پھول مانگوں تو پلاتا ہے برانڈی ساقی کرتا ہے بزم گزشتہ کی تلافی ...

مزید پڑھیے

مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے

مجھے دے کے دل جان کھونا پڑا ہے غرض ہاتھ دونوں سے دھونا پڑا ہے جو رونا یہی ہے تو پھوٹیں گی آنکھیں مجھے اب تو آنکھوں کا رونا پڑا ہے کیے سیکڑوں گھر محبت نے غارت سنو جس محلے میں رونا پڑا ہے میں پاتا نہیں دل کو سینے میں اپنے کئی دن سے خالی یہ کونا پڑا ہے کرو چل کے آباد اب گور اے ...

مزید پڑھیے

توبہ کا پاس رند‌ مے آشام ہو چکا

توبہ کا پاس رند‌ مے آشام ہو چکا بس ہو چکا تقدس اسلام ہو چکا شمع حرم تھا گاہ گہے دیر کا چراغ میں زیب کفر و رونق اسلام ہو چکا کوٹھے پہ چلئے لطف‌ شب ماہ دیکھیے سب چاندنی کا فرش لب بام ہو چکا دیں دار برہمن کہے کافر بتائے شیخ دونوں طرف سے مورد الزام ہو چکا اکثر مشاعرے پہ ہوا بزم غم ...

مزید پڑھیے

زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا

زلفیں چھوڑیں ہیں کہ جوڑا اس نے چھوڑا سانپ کا دیکھیے کس کس کو ڈستا ہے یہ جوڑا سانپ کا گورے گالوں پر ترے زلفیں یہ لہراتی نہیں یاسمیں زار صباحت میں ہے جوڑا سانپ کا عشق ان زلفوں کا مجھ سے ترک ہونے کا نہیں ہے مرا ہم زاد اے ناصح یہ جوڑا سانپ کا دونوں زلفیں یار کی الٹی ہیں بالوں پر ...

مزید پڑھیے

دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے

دید گل زار جہاں کیوں نہ کریں سیر تو ہے ایک دن جانتے ہیں خاتمہ بالخیر تو ہے رندؔ واعظ سے عبث کرتے ہو شر خیر تو ہے دونوں گھر ایک ہیں کعبہ نہ سہی دیر تو ہے خوشہ چیں بنتا ہے کیوں مزرع ہر دہقاں کا وصف انسان نہیں یہ صفت طیر تو ہے نہ بسر ہووے گی بے نشہ قدح خواروں کی ہو اگر مے کی منادی ہے ...

مزید پڑھیے

نہیں قول سے فعل تیرے مطابق

نہیں قول سے فعل تیرے مطابق کہوں کس طرح تجھ کو اے یار صادق نہ جنت کے قابل نہ دوزخ کے لائق مجھے کیوں کیا خلق اے میرے خالق ہوئے ہجر میں وہ مرض مجھ کو لاحق رہے دنگ جس میں اطبائے حاذق بھروسا کرم پر ہے ہم عاصیوں کو غضب پر سمجھتے ہیں رحم اس کا فائق فقط کنہ ذات اس کی اب تک نہ سمجھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری

نہ انگیا نہ کرتی ہے جانی تمہاری نہیں پاس کوئی نشانی تمہاری ہوئی رندؔ تو زندگانی تمہاری یہی ہے اگر ناتوانی تمہاری زیادہ ہوئی یاد جانی تمہاری غرض قہر ہے مہربانی تمہاری نہ بھولوں گا ہرگز نہ بھولا ہوں اب تک عنایت کرم مہربانی تمہاری شبیہ آپ کی کھینچ دے گا یہ مانا ادا کس طرح ...

مزید پڑھیے

قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت

قبر پر ہوویں دو نہ چار درخت ایک کافی ہے سایہ دار درخت تھا میں دیوانہ گور پر ہے ضرور بید مجنوں کا سایہ دار درخت ہوں وہ بد بخت میرے سائے سے خشک ہوتے ہیں بار دار درخت تو جو اے سرو باغ میں جائے ثمر و گل کریں نثار درخت پست ہوں تجھ سے غیرت طوبیٰ ایک کیا ہوں اگر ہزار درخت واہ رے میرے ...

مزید پڑھیے

چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ

چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ لاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہ گل کھلتے رہیں چہچہے کرتا رہے بلبل یارب رہے آباد یہ گل زار ہمیشہ ہم رند ہوئے شاہد مقصود سے واصل جھگڑے میں رہے کافر و دیں دار ہمیشہ یاں تخم تمنا سے اگا کرتا ہے لالہ گل کھاتے ہیں ہر فصل میں دو چار ہمیشہ تڑپا کریں ...

مزید پڑھیے

عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا

عدو غیر نے تجھ کو دلبر بنایا کوئی جوڑ مجھ پر مقرر بنایا کوئی سرو رکھتا نہ تھا راست یہ ہے ترے قد کو میں نے صنوبر بنایا کیا میں نے جلاد اسے اپنے حق میں ستم سہتے سہتے ستم گر بنایا نہ گنتا تھا کوئی حسینوں میں او بت تجھے دے کے دل میں نے دلبر بنایا شکر لب کہا میں نے کڑوے ہوئے تم عبث ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1548 سے 6203