آرزو بھی تو کر نہیں آتی
آرزو بھی تو کر نہیں آتی دل میں ہے ہونٹھ پر نہیں آتی وصل کی رات کے سوا کوئی شام ساتھ لے کر سحر نہیں آتی چلی جاتی ہے ان کے گھر مری نیند جا کے پھر رات بھر نہیں آتی وہ مجھے کوستے ہیں او تاثیر عرش سے تو اتر نہیں آتی پہلے آتی تھی اے قفس والو اب صبا بھی ادھر نہیں آتی چپ کھڑے ہیں وہ پیش ...