قومی زبان

آرزو بھی تو کر نہیں آتی

آرزو بھی تو کر نہیں آتی دل میں ہے ہونٹھ پر نہیں آتی وصل کی رات کے سوا کوئی شام ساتھ لے کر سحر نہیں آتی چلی جاتی ہے ان کے گھر مری نیند جا کے پھر رات بھر نہیں آتی وہ مجھے کوستے ہیں او تاثیر عرش سے تو اتر نہیں آتی پہلے آتی تھی اے قفس والو اب صبا بھی ادھر نہیں آتی چپ کھڑے ہیں وہ پیش ...

مزید پڑھیے

ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعد

ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعد آج نازک سے لب ساقی ہیں پیمانے کے بعد خم کدوں میں کچھ نہ ہوگا ایک پیمانے کے بعد رہ نہیں سکتی کبھی مے‌ لب تک آ جانے کے بعد میں ہوں ساقی ہے شب خلوت ہے دور جام ہے بوسہ پر بوسہ ہے پیمانہ ہے پیمانے کے بعد وقت ہے ایسا تھا رخصت ہو گئی ان کی حیا بات ...

مزید پڑھیے

آپ کے پہلو میں دشمن سو چکا

آپ کے پہلو میں دشمن سو چکا جائیے ہونا تھا جو کچھ ہو چکا ہنستی ہے تقدیر ہنس لے ان کے ساتھ دل مجھے میں اپنے دل کو رو چکا ہاتھ رکھا میں نے سوتے میں کہاں بولے وہ جھنجھلا کے اب میں سو چکا حشر میں آنا تھا پہلے سے ہمیں ہم کب آئے جب تماشا ہو چکا خار اس دل نے مجھے کیا کیا دیے میرے حق میں ...

مزید پڑھیے

نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماری

نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماری کٹے کیا برس زندگانی ہماری عدو کی شب وصل سو بار صدقے شب غم ہے کتنی سہانی ہماری دغا دے رہے ہیں دم‌ نزع تم کو یہ ہے وقت رخصت نشانی ہماری کیے میں نے شکوے تو وہ ہنس کے بولے عدو پر بھی ہے مہربانی ہماری انہیں نے تو دیوانہ ہم کو بنایا وہی اب کریں پاسبانی ...

مزید پڑھیے

ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا

ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا کہ بزم مے میں کوئی پارسا اب تک نہیں آیا ستم بھی لطف ہو جاتا ہے بھولے پن کی باتوں سے تجھے اے جان انداز جفا اب تک نہیں آیا دم آخر تھے بالیں پہ جو آنے کو وہ آئے بھی تو ہنس کر کہہ گئے وقت دعا اب تک نہیں آیا سحر ہوتے بجھائے کون اے شمع لحد تجھ ...

مزید پڑھیے

فریاد جنوں اور ہے بلبل کی فغاں اور

فریاد جنوں اور ہے بلبل کی فغاں اور صحرا کی زباں اور ہے گلشن کی زباں اور کٹ جائے زباں تیری تو ہو گرم زباں اور ہے اللہ نے دی ہے تجھے اے شمع زباں اور جنت بھی ہے دوزخ بھی ہے سینے میں ہمارے یہ داغ نہاں اور ہے یہ سوز نہاں اور ہو جائے سچ افلاس میں سنتا ہوں رہے گا دو چار مہینے ابھی ماہ ...

مزید پڑھیے

وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیں

وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیں یہ مے فروش تو ٹوپی اتار لیتے ہیں یہ پاس پردہ نشینوں کا ہے کہ نالے بھی جو اونچے ہوتے ہیں پردہ پکار لیتے ہیں وہ کہتے ہیں ابھی اللہ اتنی طاقت ہے جو کروٹیں کبھی ہم بے قرار لیتے ہیں بچائیں گے گل و بلبل کو دام گلچیں سے جو کوئی پہنچے تو فصل بہار لیتے ...

مزید پڑھیے

گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کے

گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کے شکل معشوق کی انداز ہیں دیوانوں کے نہ رکیں گے در و دیوار سے زندانوں کے خود بخود پاؤں اٹھے جاتے ہیں دیوانوں کے پینگ وحشت میں بڑھے ہیں ترے دیوانوں کے اب بیاباں بھی انہیں صحن ہیں زندانوں کے ایک کیا جن کے ہر اک ذرے میں گم ہوں سو حشر ہم بگولے بنے ایسے ...

مزید پڑھیے

دل ڈھونڈھتی ہے نگہ کسی کی

دل ڈھونڈھتی ہے نگہ کسی کی آئینے کی ہے نہ آرسی کی مالک مرے میں نے مے کشی کی لیکن یہ خطا کبھی کبھی کی کیا شکل ہے وصل میں کسی کی تصویر ہیں اپنی بے بسی کی کھل جائے صبا کی پاک بازی بو پھوٹے جو باغ میں کلی کی کم بخت کبھی نہ خوش ہوا تو اے غم تری ہر طرح خوشی کی منہ ہم نے ہنسی ہنسی میں ...

مزید پڑھیے

عشق میں دل لگی سی رہتی ہے

عشق میں دل لگی سی رہتی ہے غم بھی ہو تو خوشی سی رہتی ہے دل میں کچھ گدگدی سی رہتی ہے منہ پر ان کے ہنسی سی رہتی ہے یہ ہوا ہے خدا خدا کر کے رات دن بے خودی سی رہتی ہے حشر کے دن بھی کچھ گنہ کر لوں معصیت میں کمی سی رہتی ہے صدقے میں اپنے غنچہ دل کے یہ کلی کچھ کھلی سی رہتی ہے اتنی پی ہے کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1524 سے 6203