قومی زبان

منہ دکھا کر منہ چھپانا کچھ نہیں

منہ دکھا کر منہ چھپانا کچھ نہیں کچھ نہیں یہ منہ دکھانا کچھ نہیں تھا جو کیا کچھ بات کہتے کچھ نہ تھا آدمی کا بھی ٹھکانا کچھ نہیں گل ہیں معشوقوں کے دامن کے لئے قبر عاشق پر چڑھانا کچھ نہیں ہے ستانے کا بھی لطف اک وقت پر ہر گھڑی ان کو ستانا کچھ نہیں بے منائے من گئے ہم آپ سے ایسے ...

مزید پڑھیے

کھٹکتے ہیں نگاہ باغباں میں

کھٹکتے ہیں نگاہ باغباں میں جو ہیں دو چار تنکے آشیاں میں ہر اک سختی میں عالم نزع کا تھا ہماری عمر گزری امتحاں میں چھڑا لے سجدہ کرنے میں نہ کوئی لگے ہیں لال سنگ آستاں میں شرارے ہیں مرے نالوں کے قائم کہ تارے جڑ دیے ہیں آسماں میں قریب اب فصل گل شاید ہے صیاد مزا آنے لگا میری فغاں ...

مزید پڑھیے

جو تھے ہاتھ مہندی لگانے کے قابل

جو تھے ہاتھ مہندی لگانے کے قابل ہوئے آج خنجر اٹھانے کے قابل عنادل بھی کلیاں بھی گل بھی صبا بھی یہ صحبت ہے ہنسنے ہنسانے کے قابل حنا بن کے میں چوم لوں دست نازک ترے ہاتھ ہیں رنگ لانے کے قابل جوانی کا اب رنگ کچھ آ چلا ہے وہ اب ہو چلے ہیں ستانے کے قابل مجھے دیکھ کر دخت رز تن رہی ...

مزید پڑھیے

اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا

اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا کل بام پر تھے آج ہے قصد آسمان کا رونا لکھا نصیب میں ہے اپنی جان کا شکوا نہ آپ کا نہ گلا آسمان کا بازار میں بھی چلتے ہیں کوٹھوں کو دیکھتے سودا خریدتے ہیں تو اونچی دکان کا یہ بھی خدا کی شان ہم اب ایسے ہو گئے سایا بھی بھاگتا ہے تمہارے مکان کا کیوں ...

مزید پڑھیے

بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتے

بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتے نگاہیں کہتی ہیں ہم ان سے گفتگو کرتے شراب ناب سے ساقی جو ہم وضو کرتے حرم کے لوگ طواف خم و سبو کرتے وہ مل کے دست حنائی سے دل لہو کرتے ہم آرزو تو حسیں خون آرزو کرتے دروغ بافی دشمن کا حال کیا کھلتا جو پردہ چاک بھی ہوتا تو وہ رفو کرتے اتار لاتے انہیں ...

مزید پڑھیے

یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیں

یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیں ہمارے ہی سب بل نکالے ہوئے ہیں تبسم فزا میرے نالے ہوئے ہیں ذرا شوخ اب شرم والے ہوئے ہیں مرے ہاتھ پر کھیلے ہیں افعی زلف یہ سانپ آستینوں کے پالے ہوئے ہیں نہیں ہم کو لغزش کا ڈر میکدے میں کہ دو دو فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں الجھتے ہیں سوتے میں زلفوں ...

مزید پڑھیے

لے اڑے گیسو پریشانی مری

لے اڑے گیسو پریشانی مری آئنے لے بھاگے حیرانی مری کہہ اٹھا جوبن کہ بس بس ہو چکی نیچی نظروں سے نگہبانی مری بام پر کہہ آئے جا کر آہ گرم بڑھ کے بجلی سے ہے جولانی مری گیسوؤں سے ان کے اچھی غم کی رات میں فدا اس پر وہ دیوانی مری پیارے پیارے منہ سے پھر کہہ دے ذرا ہو مبارک تجھ کو مہمانی ...

مزید پڑھیے

اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کا

اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کا تو بے جا بھی شکوہ بجا ہے کسی کا حسیں حشر میں سر جھکائے ہوئے ہیں وفا آج وعدہ ہوا ہے کسی کا وہ جوبن بہت سر اٹھائے ہوئے ہیں بہت تنگ بند قبا ہے کسی کا وہ خود چاہتے ہیں کوئی اب ستائے ستانا مزا دے گیا ہے کسی کا جو ہیں دست گستاخ اپنے سلامت تو جھوٹا ہی وعدہ ...

مزید پڑھیے

اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہ

اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہ ہر گل ہے جہاں بلبل ہر شمع ہے پروانہ پتھر پڑیں دونوں پر کعبہ ہو کہ بت خانہ دونوں سے کہیں اچھا دیوانے کا پروانہ کہتا ہے انا لیلیٰ کیسا ہے یہ دیوانہ نبھنے کا نہیں دو دن اب قیس سے یارانہ کعبہ ہو کلیسا ہو دل ہو کہ صنم خانہ جلوہ ہو جہاں تیرا آباد وہ ...

مزید پڑھیے

یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا

یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا جلے آشیانے کچھ اس طرح کہ ہر ایک دل سے دھواں اٹھا لگی آگ میرے جگر میں یوں نہ لگے کسی کے بھی گھر میں یوں نہ تو لو اٹھی نہ چمک ہوئی نہ شرر اڑے نہ دھواں اٹھا کوئی مست مے کدہ آ گیا مے بے خودی وہ پلا گیا نہ صدائے نغمۂ دیر اٹھی نہ حرم سے شور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1523 سے 6203