قومی زبان

میں ایک ہاتھ تری موت سے ملا آیا

میں ایک ہاتھ تری موت سے ملا آیا ترے سرہانے اگربتیاں جلا آیا مہکتے باغ سا اک خاندان اجاڑ دیا اجل کے ہاتھ میں کیا پھول کے سوا آیا ترا خیال نہ آیا سو تیری فرقت میں میں رو چکا تو مرے دل کو صبر سا آیا مثال کنج قفس کچھ جگہ تھی تیرے قریب میں اپنے نام کی تختی وہاں لگا آیا مکان اپنی جگہ ...

مزید پڑھیے

لہو میں ناچتی ہمیشگی اداس ہو کے رہ گئی

لہو میں ناچتی ہمیشگی اداس ہو کے رہ گئی نہال کرنے والی نرم جھیل پیاس ہو کے رہ گئی وہ لذتوں بھری محبتوں بھری ملن کی ایک شب کبھی نہ پوری ہونے والی کوئی آس ہو کے رہ گئی سمجھ رہا تھا میں جسے سہاگ رات کی وشال رت مرے قریب آتے آتے وہ قیاس ہو کے رہ گئی ہرے لباس میں لگی بھلی وہ ایک دودھیا ...

مزید پڑھیے

یہاں جو پیڑ تھے اپنی جڑوں کو چھوڑ چکے

یہاں جو پیڑ تھے اپنی جڑوں کو چھوڑ چکے قدم جماتی ہوئی سب رتوں کو چھوڑ چکے کوئی تصور زنداں بھی اب نہیں باقی ہم اس زمانے کے سب دوستوں کو چھوڑ چکے بھٹک رہے ہیں اب اڑتے ہوئے غبار کے ساتھ مسافر اپنے سبھی راستوں کو چھوڑ چکے نکل چکے ہیں ترے روز و شب سے اب آگے دنوں کو چھوڑ چکے ہم شبوں کو ...

مزید پڑھیے

ہم سفر کوئی نہیں تو شور و شر کس کے لئے

ہم سفر کوئی نہیں تو شور و شر کس کے لئے اے مسافر یہ صدائے رہ گزر کس کے لئے خود سے اب تک باز رکھا میں نے اپنے آپ کو مر تو جانا تھا مجھے مرتا مگر کس کے لیے کون آیا ہے مرے پیچھے یہ کیسا وہم ہے میں ٹھہر جاتا ہوں ہر اک موڑ پر کس کے لیے یہ جو رنگ نا مرادی کھل رہا ہے چار سو اے خزاں اس کا سبب ...

مزید پڑھیے

میں نے گھاٹے کا بھی اک سودا کیا

میں نے گھاٹے کا بھی اک سودا کیا جس سے جو وعدہ کیا پورا کیا اپنی یادیں اس سے واپس مانگ کر میں نے اپنے آپ کو یکجا کیا کاش اس پر چل بھی سکتا میں کبھی عمر بھر ہموار جو رستہ کیا صلح کا پیماں کیا ہر شخص سے اور اپنے آپ سے جھگڑا کیا عشق میں اک شخص کیا بچھڑا ظفرؔ میں نے ہر پرچھائیں کا ...

مزید پڑھیے

عکس پانی میں اگر قید کیا جا سکتا

عکس پانی میں اگر قید کیا جا سکتا عین ممکن تھا میں اس شخص کو اپنا سکتا کاش کچھ دیر نہ پلکوں پہ ٹھہرتی شبنم میں اسے صبر کا مفہوم تو سمجھا سکتا بے سہارا کوئی ملتا ہے تو دکھ ہوتا ہے میں بھی کیا ہوں کہ کسی کام نہیں آ سکتا کتنی بے سود جدائی ہے کہ دکھ بھی نہ ملا کوئی دھوکہ ہی وہ دیتا کہ ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں جسے آشنا بھی ہوتا ہے

میں سوچتا ہوں جسے آشنا بھی ہوتا ہے مگر خیال سے وہ ماورا بھی ہوتا ہے سوائے شاعری زنداں میں کچھ کیا ہی نہیں وگرنہ بند قفس کھولنا بھی ہوتا ہے زیادہ تر میں عناصر سے دور دیکھوں اسے وہ خاک و آتش و آب و ہوا بھی ہوتا ہے میں ٹوٹ جاتا ہوں اور دور جا بکھرتا ہوں اگر جدائی کا صدمہ ذرا بھی ...

مزید پڑھیے

واقف خود اپنی چشم گریزاں سے کون ہے

واقف خود اپنی چشم گریزاں سے کون ہے مانوس اب مرے دل ویراں سے کون ہے کس کو خبر ہے کس گھڑی آنکھیں چھلک پڑیں اب آشنا تہیۂ طوفاں سے کون ہے دیکھیں جسے خلل ہے اسی کے دماغ میں سرشار اب تصور جاناں سے کون ہے وہ ظلم شہر میں ہے کہ اندھیر ہے کوئی وابستہ رسم جشن چراغاں سے کون ہے دیکھو جسے ...

مزید پڑھیے

نگاہ کرنے میں لگتا ہے کیا زمانہ کوئی

نگاہ کرنے میں لگتا ہے کیا زمانہ کوئی پیمبری نہ سہی دکھ پیمبرانہ کوئی اک آدھ بار تو جاں وارنی ہی پڑتی ہے محبتیں ہوں تو بنتا نہیں بہانہ کوئی میں تیرے دور میں زندہ ہوں تو یہ جانتا ہے ہدف تو میں تھا مگر بن گیا نشانہ کوئی اب اس قدر بھی یہاں ظلم کو پناہ نہ دو یہ گھر گرا ہی نہ دے دست ...

مزید پڑھیے

رات کو خواب ہو گئی دن کو خیال ہو گئی

رات کو خواب ہو گئی دن کو خیال ہو گئی اپنے لیے تو زندگی ایک سوال ہو گئی ڈال کے خاک چاک پر چل دیا ایسے کوزہ گر جیسے نمود خشک و تر رو بہ زوال ہو گئی پھول نے پھول کو چھوا جشن وصال تو ہوا یعنی کوئی نباہ کی رسم بحال ہو گئی تجھ کو کہاں سے کھوجتا جسم زمیں پہ بوجھ تھا آخر اسی تکان سے روح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1463 سے 6203