قومی زبان

کام اتنی ہی فقط راہ گزر آئے گی

کام اتنی ہی فقط راہ گزر آئے گی ہم سفر جائے گا اور یاد سفر آئے گی دور تک ایک خلا ہے سو خلا کے اندر صرف تنہائی کی صورت ہی نظر آئے گی میں نے سوچا تھا مگر یہ تو نہیں سوچا تھا تیرگی روح کے آنگن میں اتر آئے گی جاگنے والا کوئی سویا ہمیشہ کے لیے اب تو ماتم ہی کرے گی جو سحر آئے گی اک عجب ...

مزید پڑھیے

کسی طور ہو نہ پنہاں ترا رنگ رو سیاہی

کسی طور ہو نہ پنہاں ترا رنگ رو سیاہی وہ سب آنکھیں بجھ چکی ہیں کہ جو دیں مری گواہی ہو نصیب ہر کسی کو کہاں منزل محبت کہ اجڑتی جائیں راہیں کہ بکھرتے جائیں راہی ترے نور پر فدا ہوں مگر اس قدر فدا ہوں مجھے دیکھ ہی نہ پائے یہ جہاں کی کم نگاہی میں جو آہ بھر رہا ہوں تجھے یاد کر رہا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

اب کہیں اور کہاں خاک بسر ہوں ترے بندے جا کر

اب کہیں اور کہاں خاک بسر ہوں ترے بندے جا کر زندگی اور بھی مغموم لگے شہر سے آگے جا کر عدم آباد کے لوگوں کا مزاج ان دنوں کیسا ہوگا لوٹ آنے کی توقع ہو کسی کو تو وہ پوچھے جا کر میں گھنا پیڑ ہوں آیا بھی کبھی جو مرے سائے کو زوال ان خزاؤں سے بہت دور گریں گے مرے پتے جا کر کٹ بھی سکتے ہیں ...

مزید پڑھیے

جینے کا درس سب سے جدا چاہیئے مجھے

جینے کا درس سب سے جدا چاہیئے مجھے اب تو نصاب زیست نیا چاہیئے مجھے اے کاش خود سکوت بھی مجھ سے ہو ہم کلام میں خامشی زدہ ہوں صدا چاہیئے مجھے اب میرے پاس جرأت اظہار بھی نہیں کیسے بتاؤں آپ کو کیا چاہیئے مجھے سب کھڑکیاں کھلی ہیں مگر حبس ہے بہت جاں لب پہ آ چکی ہے ہوا چاہیئے مجھے

مزید پڑھیے

وہ نیند ادھوری تھی کیا خواب ناتمام تھا کیا

وہ نیند ادھوری تھی کیا خواب ناتمام تھا کیا میں جس کو سوچ رہا تھا خیال خام تھا کیا ادھر سے ہی کوئی گزرا جدھر سے گزرا تو تری مثال کوئی اور خوش خرام تھا کیا ملوں تو کیسے ملوں بے طلب کسی سے میں جسے ملوں وہ کہے مجھ سے کوئی کام تھا کیا اسی کے ساتھ رہا جس نے تجھ سے نفرت کی تری نظر میں ...

مزید پڑھیے

مثال سنگ پڑا کب تک انتظار کروں

مثال سنگ پڑا کب تک انتظار کروں پگھلنے میں جو روانی ہے اختیار کروں خبر نہیں وہاں تو کون سے لباس میں ہو میں کیسے عالم پنہاں کو آشکار کروں برنگ موجۂ خوشبو اڑا اڑا پھرے تو میں اپنے قرب سے کیوں تجھ کو زیر بار کروں میں دیکھتا ہوں اسے کیسے کیسے رنگوں میں کشید رنگ کروں اور بار بار ...

مزید پڑھیے

میں بھی ہوں اک مکان کی حد میں

میں بھی ہوں اک مکان کی حد میں یعنی زندہ ہوں اپنے مرقد میں خامشی سے یہ زیست کر جاؤ گونجنا کیا زمیں کے گنبد میں بھولتا ہی نہیں کہیں بھی تو میکدے میں رہوں کہ معبد میں وہ بھی کیا خوب ہیں جو پوچھتے ہیں کون سی خوبیاں ہیں مرشد میں فال نامہ ہے زندگی بھی ظفرؔ جی رہا ہوں حروف ابجد میں

مزید پڑھیے

شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا

شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا زندگی میں تجھے ناکام نہ ہونے دوں گا اڑتے اڑتے ہی بکھر جائیں پر و بال اے کاش طائر جاں کو تہہ دام نہ ہونے دوں گا بے وفا لوگوں میں رہنا تری قسمت ہی سہی ان میں شامل میں ترا نام نہ ہونے دوں گا کل بھی چاہا تھا تجھے آج بھی چاہا ہے کہ ہے یہ خیال ایسا جسے ...

مزید پڑھیے

کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے

کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے وہ ہم نوا نہ رہے صورت آشنا رہ جائے عجب نہیں کہ مرا بوجھ بھی نہ مجھ سے اٹھے جہاں پڑا ہے زر جاں وہیں پڑا رہ جائے میں سوچتا ہوں مجھے انتظار کس کا ہے کواڑ رات کو گھر کا اگر کھلا رہ جائے کسے خبر کہ اسی فرش سنگ پر سو جاؤں مرے مکان میں بستر مرا بچھا رہ ...

مزید پڑھیے

کس کارن اتنے رنگوں سے یاری کس کارن یہ ڈھنگ

کس کارن اتنے رنگوں سے یاری کس کارن یہ ڈھنگ جتنے رنگ بھی چاہو زیست میں بھر لو موت کا ایک ہی رنگ نام و نمود سے اتنی دوری ٹھیک ہے لیکن آخر کیوں سارے جہاں سے قوس قزح کا رشتہ اپنے آپ سے جنگ پل میں دھجی دھجی بکھرنے والی ایسی ہے یہ زیست اک سے زیادہ بچوں کے ہاتھوں میں جیسے کٹی پتنگ عمر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1462 سے 6203