قومی زبان

زخم دل پر بہار دیکھا ہے

زخم دل پر بہار دیکھا ہے کیا عجب لالہ زار دیکھا ہے جن کے دامن میں کچھ نہیں ہوتا ان کے سینوں میں پیار دیکھا ہے خاک اڑتی ہے تیری گلیوں میں زندگی کا وقار دیکھا ہے تشنگی ہے صدف کے ہونٹوں پر گل کا سینہ فگار دیکھا ہے ساقیا! اہتمام بادہ کر وقت کو سوگوار دیکھا ہے جذبۂ غم کی خیر ہو ...

مزید پڑھیے

معنی کی تلاش میں مرتے لفظ

صحن میں پھیلی ہے تلخ تر رات کی رانی کی مہک کمرۂ حیرت میں خواب کی شہزادی بال بکھرائے مرے سینے پر کب سے اک خواب ابد میں گم ہے لمس کی آنکھوں میں قوس در قوس طلسمات عجب زندہ ہیں جھڑ چکا ہے لیکن جسم کی شاخ سے چہرے کا پھول زیست کے جوہڑ میں خواہش دریا کے ایک امر لمحے کو سوچنے کی یہ سزا کچھ ...

مزید پڑھیے

زوال کے آئینے میں زندہ عکس

جھٹپٹے کے شہر میں بیگانگی کی لہر میں معدوم ہوتی روشنی کے درمیاں زیست کے پاؤں تلے آئے ہوئے لوگ ہیں یا چیونٹیاں تن بدن کی رحل پر مہمل کتابیں زرد چہروں کی کھلیں منظروں کی کھوجتی بینائیاں معذور ہیں یاد رکھنے کی تمنا بھولنے کی آرزو حافظے کی بند مٹھی میں ٹھہرتا کچھ نہیں ہر قدم خواب و ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے سورج کی سرگوشی

ڈھیر کر چیوں کے آنکھ میں ہیں لیکن آئنے کا نوحہ ہر کسی قلم کی دسترس سے باہر روشنی کے گھر میں تیرگی کا پتھر کس طرف سے آیا کون ہے وہ آخر جو پس تماشا مسکرا رہا ہے اک سوال ہوتی ہے زندگی نگر کی سرخیاں خبر کی کھوجتی ہے لیکن خواب کے سفر کی ساعتوں پہ قدغن سوچ رہن سر ہے نیند کی سحر جو قریۂ ...

مزید پڑھیے

تضادوں سے عبارت

دکھوں کے خیمے میں بیٹھ کر نارسا خوشی کی خوشی میں ہنسنا طویل و انجان ہجر کی خار زار پگڈنڈیوں پہ چلتے وصال لمحوں کی خوشبوؤں میں رچی کوئی نظم کہہ کے رونا حواس کی دسترس میں ہونا کبھی نہ ہونا انہیں تضادوں سے ذات کے ہاتھ کی لکیروں میں رمز معنی انہی پہ قائم مرے تفکر کے سلسلے سب کلام و ...

مزید پڑھیے

ادھوری نسل کا پورا سچ

عمر کا سورج سوا نیزے پہ آیا گرم شریانوں میں بہتے خون کا دریا بھنور ہونے لگا حلقۂ موج ہوا کافی نہیں وحشت ابر بدن کے واسطے آغوش کوئی اور ہو ورنہ یوں مردہ سڑک کے خواب آور سے کنارے بے خیالی میں کسی تھوکے ہوئے بچے کی الجھی سانس میں لپٹی ہوئی یہ زندگی! ذہن پر بار گراں بند قبا کے لمس کا ...

مزید پڑھیے

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا ...

مزید پڑھیے

ہم ذات سے ہم کلامی اور فراق

سچے خواب اور جھوٹی آنکھیں اندھے رستوں کی ہم راہی انجان تحیر کا پانی اور استفہامی لہجوں کی دو دھاری تلواریں تیری قرب سرائے سے یہ زاد سفر ساتھ لیا ہے رخصت کے رخساروں پر آنسو بن کر گرتے لمحے کے ہاتھوں میں اپنے ہونے کا آئینہ دے میں اس کانچ بدن سے بے نام اندیشوں کا زنگار کھرچ ...

مزید پڑھیے

سفر لا سفر

وقت کی زنجیر تو کٹ نہیں سکتی مگر کھول گھڑی دو گھڑی قفل در ذات کا آئینۂ ضبط کو سنگ تمنا سے توڑ اور خوشی سے بہا دل میں رکا سیل درد سوچ ذرا دیر کو گوشت کے ملبوس میں پنجرہ ہیں یہ پسلیاں جس کے عجب سحر میں قید تری روح کا طائر خوش رنگ ہے آنکھ اٹھا کر تو دیکھ بازو کشادہ کیے وہ شجر شش ...

مزید پڑھیے

چتا میں بیٹھی خواہش

کہ جلتے بدن کی سرائے سے کچھ فاصلے پر اگر آنکھ میں ایک آنسو لیے تم یہ سوچو کہ دشت تمنا میں جلتا ہوا یہ پڑاؤ تمہاری تھکن کا پڑاؤ ہے شاید تو ہونے کی ہونی سے پوچھوں بتا اب تری خاک کے نم میں زر خیزیاں کس قدر ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 1420 سے 6203