بد گمان
تمہارے گلے میں نئے خواب کے موتیوں کی سنہری سی مالا ہماری نہیں ہے سمندر وہ جس پر تمہارے قدم کشتیاں ہوں ہمیں صرف درس فنا ہے ہمارے لیے تو کسی اجنبی سی صدا کے بھنور سے نکلنا بھی ممکن نہیں ہے ہمیں آشنا سی نگاہوں سے سبزے میں لپٹی ہوا نے بلایا تو ہم گر پڑیں گے خزاں کے شجر سے کوئی آخری ...