قومی زبان

بد گمان

تمہارے گلے میں نئے خواب کے موتیوں کی سنہری سی مالا ہماری نہیں ہے سمندر وہ جس پر تمہارے قدم کشتیاں ہوں ہمیں صرف درس فنا ہے ہمارے لیے تو کسی اجنبی سی صدا کے بھنور سے نکلنا بھی ممکن نہیں ہے ہمیں آشنا سی نگاہوں سے سبزے میں لپٹی ہوا نے بلایا تو ہم گر پڑیں گے خزاں کے شجر سے کوئی آخری ...

مزید پڑھیے

اور دیا جلتا ہے خواب میں

وہی کائنات کی پھیلتی ہوئی ظلمتیں وہی سورجوں کی ہے بے بسی یہی ایک منظر رو برو (مرے شش جہات کی داستاں) مجھے لمحہ لمحہ نگل رہا ہے مگر کہیں مری خواب رات کے آسمان پہ کوئی ہالۂ نور ہے جو ازل سے تا بہ ابد فضائے فنا میں درج ہے ایسی سطر دوام کی جسے مسجدوں کے اجاڑ طاق ترس گئے جسے ڈھونڈتے کئی ...

مزید پڑھیے

جب بینائی ساون نے چرائی ہو

خستگی شہر تمنا کی نہ پوچھ جس کی بنیادوں میں زلزلے موج تہہ آب سے ہیں دیکھ امید کے نشے سے یہ بوجھل آنکھیں دیکھ سکتی ہیں جو آئندہ کا سورج زندہ دھوپ کے پیالے میں زیست کی ہریالی زرد چہرے پہ یہ کیسا ہے پریشان لکیروں کا ہجوم اور کیوں خوف کی بد شکل پچھل پائی کوئی تجھے باہوں میں جکڑنے کو ...

مزید پڑھیے

اک برگ خشک سے گل تازہ تک آ گئے

اک برگ خشک سے گل تازہ تک آ گئے ہم شہر دل سے جسم کے صحرا تک آ گئے اس شام ڈوبنے کی تمنا نہیں رہی جس شام تیرے حسن کے دریا تک آ گئے کچھ لوگ ابتدائے رفاقت سے قبل ہی آئندہ کے ہر ایک گزشتہ تک آ گئے یہ کیا کہ تم سے راز محبت نہیں چھپا یہ کیا کہ تم بھی شوق تماشا تک آ گئے بیزارئ کمال سے اتنا ...

مزید پڑھیے

حیرت پیہم ہوئے خواب سے مہماں ترے

حیرت پیہم ہوئے خواب سے مہماں ترے رات چراغوں میں کیوں بجھ گئے امکاں ترے ایک قدم لغزشیں راہ میں آ کر ملیں روٹھ گئے تجھ سے پھر دشت و بیاباں ترے عشق کے اندھے خدا حسن کا رستہ دکھا در پہ ترے آ گئے بے سر و ساماں ترے نشہ تھا کیسا عجب خواب کہانی میں جب آنکھ تھی روشن مری نقش تھے عریاں ...

مزید پڑھیے

ہونے کی اک جھلک سی دکھا کر چلا گیا

ہونے کی اک جھلک سی دکھا کر چلا گیا کھولی تھی ہم نے آنکھ کہ منظر چلا گیا کیا خود کو دیکھنے کا عجب شوق تھا کہ وہ چپ چاپ اٹھ کے سوئے سمندر چلا گیا کن دائروں میں گھومتے ہیں اب خبر نہیں کیوں ہاتھ سے وہ چاک سا چکر چلا گیا پہلے قدم پہ ختم ہوا قصۂ جنوں پہلا قدم ہی دشت برابر چلا گیا ہم ...

مزید پڑھیے

وہی خرابۂ امکاں وہی سفال قدیم

وہی خرابۂ امکاں وہی سفال قدیم ہمک رہا ہے کہیں دل میں اک خیال قدیم کھڑا ہوں جیسے ابھی تک ازل کے زینے پر نظر میں ہے وہی نظارۂ جمال قدیم فراق رات میں زندہ رہے کہ زندہ تھی ہماری روح میں سرشارئ وصال قدیم مرا وجود حوالہ ترا ہوا آخر تو کھا گیا نا مجھے تو مرے سوال قدیم یہ حبس وقت یہ لا ...

مزید پڑھیے

ذات کی کال کوٹھڑی سے آخری نشریہ

اب کوئی صحرا نہ اونٹوں کی قطاریں گھنٹیاں سی جگمگاتی خواہشوں کی دھیان کے کہرے میں لپٹی گنگناتی ہیں مگر مضراب آئندہ سفر کے راستوں کے ساز سے ناراض ہیں میں اسی اندھی گلی کی قبر میں مرنے لگا بھاگ نکلی تھی جہاں سے زیست پیدائش کے دکھ دے کر مجھے آنکھ سے چپکے نظاروں کے ہزاروں داغ ...

مزید پڑھیے

نصف ہجر کے دیار سے

ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر جدائیوں کے سفر پہ نکلے تھے تم مگر کیوں رکے ہوئے ہو یقین خفتہ گمان پختہ کے پانیوں پر جہاں پہ اول محبتوں کے کنول کھلے تھے ابھی وہیں ہو! جدائیوں کے سفر پہ جا کر بھی اب تلک تم گئے نہیں ہو! چلے بھی جاؤ چلے بھی جاؤ کہ گمشدہ ذات کے خزینے کی کنجیاں ڈھونڈنی ہیں ...

مزید پڑھیے

شکست مان کے تسخیر کر لیا ہے مجھے

شکست مان کے تسخیر کر لیا ہے مجھے غزال دشت نے زنجیر کر لیا ہے مجھے میں منتشر تھا کسی عکس رائیگاں کی طرح نگاہ شوق نے تصویر کر لیا ہے مجھے بکھر گیا تھا سر شہر آشیانہ میں کسی کے ربط نے تعمیر کر لیا ہے مجھے نکل کے جاؤں کہاں میں حصار گردش سے سفر نے پاؤں میں زنجیر کر لیا ہے مجھے سکوت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1421 سے 6203