قومی زبان

روداد محبت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

روداد محبت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے دو دن کی مسرت کیا کہئے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں اک ہوش کی ساعت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنم رقصاں ہے بیداد مشیت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول ...

مزید پڑھیے

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں مرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ...

مزید پڑھیے

ساقی کی اک نگاہ کے افسانے بن گئے

ساقی کی اک نگاہ کے افسانے بن گئے کچھ پھول ٹوٹ کر مرے پیمانے بن گئے کاٹی جہاں تصور جاناں میں ایک شب کہتے ہیں لوگ اس جگہ بت خانے بن گئے جن پر نہ سائے زلف غزالاں کے پڑ سکے احساس کی نگاہ میں ویرانے بن گئے جو پی سکے نہ سرخ لبوں کی تجلیاں دنیا کے تجربات سے انجانے بن گئے ساغرؔ وہی ...

مزید پڑھیے

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند اپنی تقدیر کہاں بھول گیا عید کا چاند ان کے ابروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چھپا عید کا چاند جانے کیوں آپ کے رخسار مہک اٹھتے ہیں جب کبھی کان میں چپکے سے کہا عید کا چاند دور ویران بسیرے میں دیا ہو جیسے غم کی دیوار سے ...

مزید پڑھیے

تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا

تیری نظر کا رنگ بہاروں نے لے لیا افسردگی کا روپ ترانوں نے لے لیا جس کو بھری بہار میں غنچے نہ کہہ سکے وہ واقعہ بھی میرے فسانوں نے لے لیا شاید ملے گا قریۂ مہتاب میں سکوں اہل خرد کو ایسے گمانوں نے لے لیا یزداں سے بچ رہا تھا جلالت کا ایک لفظ اس کو حرم کے شوخ بیانوں نے لے لیا تیری ...

مزید پڑھیے

چاندنی کو رسول کہتا ہوں

چاندنی کو رسول کہتا ہوں بات کو با اصول کہتا ہوں جگمگاتے ہوئے ستاروں کو تیرے پاؤں کی دھول کہتا ہوں جو چمن کی حیات کو ڈس لے اس کلی کو ببول کہتا ہوں اتفاقاً تمہارے ملنے کو زندگی کا حصول کہتا ہوں آپ کی سانولی سی مورت کو ذوق یزداں کی بھول کہتا ہوں جب میسر ہوں ساغر و مینا برق پاروں ...

مزید پڑھیے

غم کے مجرم خوشی کے مجرم ہیں

غم کے مجرم خوشی کے مجرم ہیں لوگ اب زندگی کے مجرم ہیں اور کوئی گناہ یاد نہیں سجدۂ بے خودی کے مجرم ہیں استغاثہ ہے راہ و منزل کا راہزن رہبری کے مجرم ہیں مے کدے میں یہ شور کیسا ہے بادہ کش بندگی کے مجرم ہیں دشمنی آپ کی عنایت ہے ہم فقط دوستی کے مجرم ہیں ہم فقیروں کی صورتوں پہ نہ ...

مزید پڑھیے

وقت کی عمر کیا بڑی ہوگی

وقت کی عمر کیا بڑی ہوگی اک ترے وصل کی گھڑی ہوگی دستکیں دے رہی ہے پلکوں پر کوئی برسات کی جھڑی ہوگی کیا خبر تھی کہ نوک خنجر بھی پھول کی ایک پنکھڑی ہوگی زلف بل کھا رہی ہے ماتھے پر چاندنی سے صبا لڑی ہوگی اے عدم کے مسافرو ہشیار راہ میں زندگی کھڑی ہوگی کیوں گرہ گیسوؤں میں ڈالی ...

مزید پڑھیے

راہزن آدمی رہنما آدمی

راہزن آدمی رہنما آدمی بارہا بن چکا ہے خدا آدمی ہائے تخلیق کی کار پردازیاں خاک سی چیز کو کہہ دیا آدمی کھل گئے جنتوں کے وہاں زائچے دو قدم جھوم کر جب چلا آدمی زندگی خانقاہ شہود و بقا اور لوح مزار فنا آدمی صبح دم چاند کی رخصتی کا سماں جس طرح بحر میں ڈوبتا آدمی کچھ فرشتوں کی ...

مزید پڑھیے

اے دل بے قرار چپ ہو جا

اے دل بے قرار چپ ہو جا جا چکی ہے بہار چپ ہو جا اب نہ آئیں گے روٹھنے والے دیدۂ اشک بار چپ ہو جا جا چکا کاروان لالہ و گل اڑ رہا ہے غبار چپ ہو جا چھوٹ جاتی ہے پھول سے خوشبو روٹھ جاتے ہیں یار چپ ہو جا ہم فقیروں کا اس زمانے میں کون ہے غم گسار چپ ہو جا حادثوں کی نہ آنکھ کھل جائے حسرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1419 سے 6203