درست ہے کہ مرا حال اب زبوں بھی نہیں
درست ہے کہ مرا حال اب زبوں بھی نہیں مقام سجدہ کہ یہ جام سرنگوں بھی نہیں نہیں کہ شورش بزم طرب فزوں بھی نہیں دلیل شورش جاں اک چراغ خوں بھی نہیں حدیث شوق ابھی مختصر ہے چپ رہیے ابھی بہار کا کیا غم ابھی جنوں بھی نہیں ابھی تو طاق حرم میں جلائیے شمعیں ابھی حریف صنم جذب اندروں بھی ...