قومی زبان

شہر کے لوگ جسے تیری ستم زائی کہیں

شہر کے لوگ جسے تیری ستم زائی کہیں ہم بہرحال اسے اپنی پذیرائی کہیں تیرے احباب ہمیں غیر سمجھتے ہی رہے تیرے دشمن ہمیں اب تک ترا شیدائی کہیں یہ شرف بھی تری چاہت میں ملا ہے ہم کو تیرے سب چاہنے والے ہمیں سودائی کہیں ہم سجاتے ہیں شب و روز ترے ذکر کے ساتھ ہم قفس میں بھی وہی نغمۂ ...

مزید پڑھیے

بہار آئی ہے پھر پیرہن گلابی ہو

بہار آئی ہے پھر پیرہن گلابی ہو وہ چاند آئے سر انجمن گلابی ہو سیاہ رات سی چھائی وہ زلف چہرے پر جبین ناز گلابی بدن گلابی ہو کھلیں جو بند قبا رات جگمگا اٹھے مہکتی سیج شکن در شکن گلابی ہو ہوا کی لرزشیں دہکاتیں عارض و لب کو حیا کی موج سے سارا بدن گلابی ہو وہ ہونٹ چپ ہوں تو آنکھوں ...

مزید پڑھیے

رات کتنی بوجھل ہے کس قدر اندھیرا ہے

رات کتنی بوجھل ہے کس قدر اندھیرا ہے دل گواہی دیتا ہے پاس ہی سویرا ہے ایک شہ پہ بچ جائے شہ پہ شہ چلی آئے موت کے کھلاڑی کو زندگی نے گھیرا ہے ناصحوں کا احساں ہے آپ مجھ کو سمجھاتے جس گلی میں چھوڑ آئے اس گلی کا پھیرا ہے کائنات کے دل میں رقص صد بہاراں بھی کائنات کے دل میں یار کا بھی ...

مزید پڑھیے

چاروں اور اب پھول ہی پھول ہیں کیا گنتے ہو داغوں کو

چاروں اور اب پھول ہی پھول ہیں کیا گنتے ہو داغوں کو ہو توفیق تو دل سے لگاؤ ان نو رستہ باغوں کو جلتے صحرا کی موجوں پر گرتے پڑتے رہرو ہیں چشمۂ آزادی کے جو اب تک ڈھونڈ رہے ہیں سراغوں کو باد حوادث کے شہ پر خود ان کو راہ دکھاتے ہیں وقت کے دھارے پر چھوڑا ہے ہم نے ایسے چراغوں کو کنج قفس ...

مزید پڑھیے

بہت جی ترستا رہا رات بھر

بہت جی ترستا رہا رات بھر جو ہم سے بھی مل لو ملاقات بھر بساط تمنا الٹتے ہو کیوں کہ بازی یہ کھیلیں گے ہم رات بھر ہے آنکھوں میں طوفاں بقدر جنوں ہے دل میں تمنا خرابات بھر نہیں مانگتے مستیٔ جاوداں ہمیں چاہیئے مے مدارات بھر ذرا دیکھ لو میرے دل کی طرف یہ چھل بل ودیعت نہیں رات ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی آ رہا ہے دل کے قریب

پھر کوئی آ رہا ہے دل کے قریب داغ تازہ کھلا ہے دل کے قریب پھر کوئی یاد سایہ افگن ہے دھندلی دھندلی فضا ہے دل کے قریب پھر کوئی تازہ واردات ہوئی جمگھٹا سا لگا ہے دل کے قریب آج بھی چین سے نہ سوئیے گا پھر کہیں رت جگا ہے دل کے قریب کل کھلے تھے یہاں نشاط کے پھول اب دھواں اٹھ رہا ہے دل ...

مزید پڑھیے

دیدہ و دل مری سرکار اٹھا لائے ہیں

دیدہ و دل مری سرکار اٹھا لائے ہیں ہم قفس میں بھی ترا پیار اٹھا لائے ہیں کیسے چھینیں گے بھلا ہم سے محبت تیری ہم ترے کوچہ و بازار اٹھا لائے ہیں لاکھ ویران سہی گوشۂ زنداں لیکن ہم تو تیرے لب و رخسار اٹھا لائے ہیں زنگ آلود پڑے تھے تری غفلت کے سبب ہم وہی درد کے ہتھیار اٹھا لائے ...

مزید پڑھیے

جس کو طے کر نہ سکے آدمی صحرا ہے وہی

جس کو طے کر نہ سکے آدمی صحرا ہے وہی اور آخر مرے رستے میں بھی آیا ہے وہی یہ الگ بات کہ ہم رات کو ہی دیکھ سکیں ورنہ دن کو بھی ستاروں کا تماشا ہے وہی اپنے موسم میں پسند آیا ہے کوئی چہرہ ورنہ موسم تو بدلتے رہے چہرہ ہے وہی ایک لمحے میں زمانہ ہوا تخلیق ملالؔ وہی لمحہ ہے یہاں اور زمانہ ...

مزید پڑھیے

یہ خوش فہمی بچاؤ کے لیے ہے

یہ خوش فہمی بچاؤ کے لیے ہے کہ دریا بس بہاؤ کے لیے ہے چرانے دوں کسی سورج کو کیسے یہ شبنم جو الاؤ کے لئے ہے تری تالی بھی کوئی فتنہ ہوگی تری تھپکی بھی تاؤ کے لیے ہے بے مرہم ہی رہو کہ یہ نمک تو ہمارے اپنے گھاؤ کے لئے ہے دھڑکنا بھی ضروری نئیں ہے اس کا نہ ہی یہ دل لگاؤ کے لیے ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

دور پاس ہو کر بھی

دور پاس ہو کر بھی عام خاص ہو کر بھی پوجتے رہے پتھر رب شناس ہو کر بھی ہے قبول ہر آمد آ اداس ہو کر بھی گھونسلے نہیں بچتے اب بے ماس ہو کر بھی خشک ہو نہیں سکتے ہونٹ پیاس ہو کر بھی زخم چھو نہیں پائی رت کپاس ہو کر بھی بد گماں نہیں ساگرؔ بد حواس ہو کر بھی

مزید پڑھیے
صفحہ 1394 سے 6203