شہر کے لوگ جسے تیری ستم زائی کہیں
شہر کے لوگ جسے تیری ستم زائی کہیں ہم بہرحال اسے اپنی پذیرائی کہیں تیرے احباب ہمیں غیر سمجھتے ہی رہے تیرے دشمن ہمیں اب تک ترا شیدائی کہیں یہ شرف بھی تری چاہت میں ملا ہے ہم کو تیرے سب چاہنے والے ہمیں سودائی کہیں ہم سجاتے ہیں شب و روز ترے ذکر کے ساتھ ہم قفس میں بھی وہی نغمۂ ...