شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سے
شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سے ہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سے طلب مہر تھی ظاہر مرے ارمانوں سے کہہ گیا ایک ہی قصہ کئی عنوانوں سے بزم کی شان گھٹی چاک گریبانوں سے جانے بھی دیجے خطا ہو گئی نادانوں سے محو دیدار ہوئے ہم تو کسی کی نہ سنی نور آنکھوں میں جو آیا تو گئے کانوں ...