خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کا
خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کا آشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کا یہ خلاصہ مختصر ہے عشق کی روداد کا شوق ہے ان کو ستانے کا ہمیں فریاد کا ہر گرفتار قفس قیدی ہے بے میعاد کا چھوڑ بھی دیتا ہے جی چاہے اگر صیاد کا واہ مجھ ایسے مقید کو لقب آنراء کا مصلحت صیاد کی ہے یا کرم صیاد ...