قومی زبان

اس طریقے کو عداوت میں روا رکھتا ہوں میں

اس طریقے کو عداوت میں روا رکھتا ہوں میں اپنے دشمن کے لیے حرف دعا رکھتا ہوں میں میں فقیری میں بھی اہل زر سے بہتر ہی رہا کچھ نہیں رکھتا مگر نام خدا رکھتا ہوں میں میں کبھی تنہا نہیں ہوتا سر کنج چمن وہ نہ ہوں تو ہاتھ میں دست صبا رکھتا ہوں میں میں نے کم کھویا سوا پایا ہے کار عشق ...

مزید پڑھیے

جیسے کسی سے وصل کا وعدہ وفا ہوا

جیسے کسی سے وصل کا وعدہ وفا ہوا یوں صبح دم چراغ سے شعلہ جدا ہوا زہراب غم کا کوئی اثر ہو تو کس طرح سینے میں دل ہے دل بھی لہو میں بجھا ہوا تجھ سے سدا بہار کو اندیشۂ خزاں پورا نہ ہو خدا کرے تیرا کہا ہوا اس چشم مے فروش سے پی جس کا ایک عمر اک شام کا بھی قرض بہ مشکل ادا ہوا دیتا ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ ایسا کوئی شعر نازل نہ ہو

مجھ پہ ایسا کوئی شعر نازل نہ ہو جس کی حدت مرے خوں میں شامل نہ ہو فکر ایسے محیط سخن کی کرو جس کی امواج کا کوئی ساحل نہ ہو آج اک بنت مریم ہے آغوش میں مجھ پہ اے روح قدس آج نازل نہ ہو بے محابا ملے ہجر ہو با وصال کوئی دیوار رستے میں مائل نہ ہو شاخ پر ہے گماں گل سے اندیشہ ہے یہ بھی خنجر ...

مزید پڑھیے

بہ ہر عالم برابر لکھ رہا ہوں

بہ ہر عالم برابر لکھ رہا ہوں میں پیاسا ہوں سمندر لکھ رہا ہوں صدف اندر صدف تھے جو معانی انہیں گوہر بہ گوہر لکھ رہا ہوں نہیں یہ شاعری ہرگز نہیں ہے میں خود اپنا مقدر لکھ رہا ہوں ہر اک طفل قلم یہ سوچتا ہے میں کل دنیا سے بہتر لکھ رہا ہوں نظر آتی نہیں جو دل کی دنیا اسے منظر بہ منظر ...

مزید پڑھیے

مجھے ملا وہ بہاروں کی سر خوشی کے ساتھ

مجھے ملا وہ بہاروں کی سر خوشی کے ساتھ گل و سمن سے زیادہ شگفتگی کے ساتھ وہ رات چشمۂ ظلمات پر گزاری تھی وہ جب طلوع ہوا مجھ پہ روشنی کے ساتھ اگر شعور نہ ہو تو بہشت ہے دنیا بڑے عذاب میں گزری ہے آگہی کے ساتھ یہ اتفاق ہیں سب راہ کی مسافت کے چلے کسی کے لیے جا ملے کسی کے ساتھ برا نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

خواب کی صورت کبھی ہم رنگ افسانہ ملے

خواب کی صورت کبھی ہم رنگ افسانہ ملے چاند جیسے لوگ ہم سے ماہتابانہ ملے دیدہ و دل میں بسا لی اس کے کوچے کی ہوا اس کی زلفوں کی مہک سے بھی اسیرانہ ملے ہم بھی اک بت کی پرستش کے لیے بیتاب ہیں کون جانے کب محبت کا صنم خانہ ملے آرزو مند تماشہ ہیں مری تنہائیاں کوئی کاشانہ نہیں تو کوئی ...

مزید پڑھیے

جسے لکھ لکھ کے خود بھی رو پڑا ہوں

جسے لکھ لکھ کے خود بھی رو پڑا ہوں میں اپنی روح کا وہ مرثیہ ہوں مری تنہائیوں کو کون سمجھے میں سایہ ہوں مگر خود سے جدا ہوں سمجھتا ہوں نوا کی شعلگی کو سکوت حرف سے لمس آشنا ہوں کسی سے کیا ملوں اپنا سمجھ کر میں اپنے واسطے بھی نارسا ہوں کوئی سورج ہے فن کا تو مجھے کیا میں اپنی روشنی ...

مزید پڑھیے

اصنام مال و زر کی پرستش سکھا گئی

اصنام مال و زر کی پرستش سکھا گئی دنیا مجھے بھی عابد دنیا بنا گئی وہ سنگ دل مزار وفا پر بنام عشق آئی تو میرے نام کا پتھر لگا گئی میرے لیے ہزار تبسم تھی وہ بہار جو آنسوؤں کی راہ پہ مجھ کو لگا گئی گوہر فروش شبنمی پلکوں کی چھاؤں میں کیا آگ تھی جو روح کے اندر سما گئی میرے سخن کی داد ...

مزید پڑھیے

چہرے شادابی سے عاری آنکھیں نور سے خالی ہیں

چہرے شادابی سے عاری آنکھیں نور سے خالی ہیں کس کے آگے ہاتھ بڑھاؤں سارے ہاتھ سوالی ہیں مجھ سے کس نے عشق کیا ہے کون مرا محبوب ہوا میرے سب افسانے جھوٹے سارے شعر خیالی ہیں چاند کا کام چمکتے رہنا اس ظالم سے کیا کہنا کس کے گھر میں چاندنی چھٹکی کس کی راتیں کالی ہیں صہباؔ اس کوچے میں نہ ...

مزید پڑھیے

گونج مرے گمبھیر خیالوں کی مجھ سے ٹکراتی ہے

گونج مرے گمبھیر خیالوں کی مجھ سے ٹکراتی ہے آنکھیں بند کروں یا کھولوں بجلی کوندے جاتی ہے تنہائی کے دشت سے گزرو تو ممکن ہے تم بھی سنو سناٹے کی چیخ جو میرے کانوں کو پتھراتی ہے کل اک نیم شگفتہ جسم کے قرب سے مجھ پر ٹوٹ پڑی آدھی رات کو ادھ کھلی کلیوں سے جو خوش بو آتی ہے سونے گھروں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1354 سے 6203