قومی زبان

ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے

ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے جو کبھی تھا وہی انساں کا نصیب آج بھی ہے جگمگاتے ہیں افق پر یہ ستارے لیکن راستہ منزل ہستی کا مہیب آج بھی ہے سر مقتل جنہیں جانا تھا وہ جا بھی پہنچے سر منبر کوئی محتاط خطیب آج بھی ہے اہل دانش نے جسے امر مسلم مانا اہل دل کے لیے وہ بات عجیب آج بھی ...

مزید پڑھیے

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے سرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہے دونوں وقت ملتے ہیں دو دلوں کی صورت سے آسماں نے خوش ہو کر رنگ سا بکھیرا ہے ٹھہرے ٹھہرے پانی میں گیت سرسراتے ہیں بھیگے بھیگے جھونکوں میں خوشبوؤں کا ڈیرا ہے کیوں نہ جذب ہو جائیں اس حسیں نظارے میں روشنی کا جھرمٹ ...

مزید پڑھیے

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے کہنے کو دل کی بات جنہیں ڈھونڈتے تھے ہم محفل میں آ گئے ہیں وہ اپنے نصیب سے نیلام ہو رہا تھا کسی نازنیں کا پیار قیمت نہیں چکائی گئی اک غریب سے تیری وفا کی لاش پہ لا میں ہی ڈال دوں ریشم کا یہ کفن جو ملا ہے رقیب سے

مزید پڑھیے

خوشیاں تمام غم میں وہ تبدیل کر گیا

خوشیاں تمام غم میں وہ تبدیل کر گیا آخر مرے خلوص کی تذلیل کر گیا وہ ایک شخص دوستوں مر تو گیا مگر روشن جہاں میں پیار کی قندیل کر گیا لکھ کر وفا کا نام وہ سادہ ورق پہ آج پوری ہر اک کتاب کی تفصیل کر گیا شعلہ بیاں تھا کتنا خطرناک دوستو لفظوں کا زہر جسم میں تحلیل کر گیا سیفیؔ کی آج ...

مزید پڑھیے

خواب

سرخ ڈھلکتے آنچل سے چھلکتے سیاہ پیچیدہ خواب کہ جب سوچ کی گہرائیوں کو پھلانگتے ہوئے اپنی حدیں پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سنگ زنی کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ ادھورے خواب و خیال کفر کی مانند ہوتے ہیں وہ کفر جس پہ سنگ زنی کی دفعہ لگ جائے اور ایک ایک سنگ جسم کو چھوتا ہوا روح میں اترتا ہے ...

مزید پڑھیے

ستمگر

تم مجھ پر وارد ہوئے اک ستم گر کی طرح مئی کی وہ شام تھی مجھے آج بھی یاد ہے سفید رنگ کی شرٹ پہنے ہاتھ میں اخبار رول کئے تم پنڈال کی کرسی پر براجمان تھے پہلی نظر میں تم عام سے تھے جیسے تم عاشق ہو اور میں محبوب میری نظر کا لمس تمہیں خاصا خاص کر گیا دیکھو کہانی نے پلٹا کھایا تم محب بن گئے ...

مزید پڑھیے

قحط

میں اپنے بند کمرے میں پڑا ہوں کہ روشنی بھی اجالوں کی منتظر ہے وہ کونے میں لگا جالا بھی تھک گیا ہے نیلی دیواریں جو امید کا اک زاویہ بناتی تھیں خود کو پردے سے چھپاتی ہیں کہ کھڑکی سے نظر آتا بارش کا خوب صورت منظر محظوظ کن تھا کلینڈر کے پلٹنے پر اب رم نظم بھی سنائی نہیں دیتی مگر کھڑکی ...

مزید پڑھیے

تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیں

تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیں وہی آنسو وہی آہیں وہی غم ہے جدھر جائیں کوئی تو ایسا گھر ہوتا جہاں سے پیار مل جاتا وہی بیگانے چہرے ہیں جہاں جائیں جدھر جائیں ارے او آسماں والے بتا اس میں برا کیا ہے خوشی کے چار جھونکے گر ادھر سے بھی گزر جائیں

مزید پڑھیے

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں بارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا

مزید پڑھیے

ایک میٹھی سی کسک جاگ اٹھی ہے من میں (ردیف .. ا)

ایک میٹھی سی کسک جاگ اٹھی ہے من میں یاد پھر سے مجھے اک خواب پرانا آیا آج میں آہنی دیوار سے ٹکرا جاؤں آج اک دوست مجھے دینے دلاسا آیا آپ نے ہم کو ابھی ٹھیک سے جانا کب ہے وار یہ آخری ہوگا اگر اوچھا آیا مانا دشوار سہی پھر بھی کریں کیا آخر تیرے گھر تک اگر آیا یہی رستہ آیا تو تو پاؤں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1328 سے 6203