پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے
پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے سر جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا سر اٹھاؤ تو کوئی بات بنے زندگی بھیک میں نہیں ملتی زندگی بڑھ کے چھینی جاتی ہے اپنا حق سنگ دل زمانے سے چھین پاؤ تو کوئی بات بنے رنگ اور نسل ذات اور مذہب جو بھی ہے آدمی سے کمتر ہے اس حقیقت کو تم بھی میری ...