دیدنی ہے ہماری زیبائی
دیدنی ہے ہماری زیبائی ہم کہ ہیں حسن کے تمنائی بس یہ ہے انتہا تعلق کی ذکر پر ان کے آنکھ بھر آئی تو نہ کر اپنی محفلوں کو اداس راس ہے ہم کو رنج تنہائی ہم تو کہہ دیں سلیمؔ حال ترا کب وہاں ہے کسی کی شنوائی اور تو کیا دیا بہاروں نے بس یہی چار دن کی رسوائی ہم کو کیا کام رنگ محفل سے ہم ...