قومی زبان

دیدنی ہے ہماری زیبائی

دیدنی ہے ہماری زیبائی ہم کہ ہیں حسن کے تمنائی بس یہ ہے انتہا تعلق کی ذکر پر ان کے آنکھ بھر آئی تو نہ کر اپنی محفلوں کو اداس راس ہے ہم کو رنج تنہائی ہم تو کہہ دیں سلیمؔ حال ترا کب وہاں ہے کسی کی شنوائی اور تو کیا دیا بہاروں نے بس یہی چار دن کی رسوائی ہم کو کیا کام رنگ محفل سے ہم ...

مزید پڑھیے

سوچ میں گم بے کراں پہنائیاں

سوچ میں گم بے کراں پہنائیاں عشق ہے اور ہجر کی تنہائیاں رات کہتی ہے کہ کٹنے کی نہیں درد کہتا ہے کرم فرمائیاں بین کرتی ہے دریچوں میں ہوا رقص کرتی ہیں سیہ پرچھائیاں خامشی جیسے کوئی آہ طویل سسکیاں لیتی ہوئی تنہائیاں کون تو ہے کون میں کیسی وفا حاصل ہستی ہیں کچھ رسوائیاں یاد سے ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو عقل کی چربی چڑھی ہے اس کی بوٹی پر

نہ پوچھو عقل کی چربی چڑھی ہے اس کی بوٹی پر کسی شے کا اثر ہوتا نہیں کم بخت موٹی پر کفن سے دوسروں کے جو سلاتے ہیں لباس اپنا وہ جذبے ہنس رہے ہیں عشق سادہ کی لنگوٹی پر یہی عیش ایک دن اہل ہوس کا خون چاٹے گا ابھی کچھ دن لگا رکھیں وہ اس کتے کو روٹی پر نہ جانے کیسے نازک تار کو مضراب نے ...

مزید پڑھیے

میں سر چھپاؤں کہاں سایۂ نظر کے بغیر

میں سر چھپاؤں کہاں سایۂ نظر کے بغیر کہ تیرے شہر میں رہتا ہوں اور گھر کے بغیر مجھے وہ شدت احساس دے کہ دیکھ سکوں تجھے قریب سے اور منت نظر کے بغیر یہ شہر ذہن سے خالی نمو سے عاری ہے بلائیں پھرتی ہیں یاں دست و پا و سر کے بغیر نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے یہ شہر آب کو ترسے گا چشم ...

مزید پڑھیے

گوشۂ دل میں کوئی پھول کھلائے رکھو

گوشۂ دل میں کوئی پھول کھلائے رکھو ایک امید پہ آنگن کو سجائے رکھو خشک پتوں کی طرح اصل سے کٹ جاؤ گے ہے یہی اچھا اسے اپنا بنائے رکھو میرا ایماں ہے اسے لوٹ کے گھر آنا ہے طاق میں کوئی دیا روز جلائے رکھو یاد اس کی تو کسی طاق میں رکھنے کی نہیں یہ صحیفہ ہے اسے دل سے لگائے رکھو کھل ہی ...

مزید پڑھیے

اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں

اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں میں اپنے آپ سے انکار کر کے آیا ہوں مجھے خبر ہے کہ یہ پیاس مار ڈالے گی مگر میں آب کو دشوار کر کے آیا ہوں بچا بچا کے رکھا تھا جسے زمانے سے وہ گنبد آج میں مسمار کر کے آیا ہوں مبادا خواب بکھرنا محال ہو جائے میں خود کو نیند سے بیدار کر کے آیا ہوں نہ ...

مزید پڑھیے

بندشیں توڑ کے ایسا تو نکل آیا تھا

بندشیں توڑ کے ایسا تو نکل آیا تھا چاند جیسے کہ فلک سے یہ پھسل آیا تھا میرا یہ دل جسے پتھر بھی بہت نرم لگے برف جیسا مرے سینے میں پگھل آیا تھا ایسی وادی سے بھلا کون پلٹ کر آئے ایک بچہ ہی سا تھا میں جو نکل آیا تھا تم کو اندر کی بغاوت کا کوئی علم نہیں جسم کو پیٹھ پہ رکھا تھا تو چل ...

مزید پڑھیے

کشمکش

دل یہ بولے کہ باندھ رخت سفر اور ذہن آئے بیڑیاں بن کر اب اذیت ترا مقدر ہے تو نکل جا یا دیکھ لے رک کر ہاں مگر ایک ایک لمحہ وہ جو تو اس کشمکش سے گزرے گا اک حسیں باب بن کے یادوں کا عمر بھر تیرے ساتھ ٹھہرے گا وہ سفر جو نہ طے کیا تو نے پیار سے بار بار چھیڑے گا

مزید پڑھیے

عید

گاؤں میں عید پھرا کرتی تھی گلیاں گلیاں اور اس شہر میں تھک کر یوں ہی سو جاتی ہے پہلے ہنستی تھی ہنساتی تھی کھلاتی تھی مجھے اب تو وہ پاس بھی آتی ہے تو رو جاتی ہے کتنی مستانہ سی تھی عید مرے بچپن کی اب خیالوں میں بھی لاتا ہوں تو کھو جاتی ہے ہم کبھی عید مناتے تھے منانے کی طرح اب تو بس ...

مزید پڑھیے

عید مناؤں کیسے

آج میں عید مناؤں تو مناؤں کیسے تجھ کو سینے سے لگاؤں تو لگاؤں کیسے عید گاہ اب تو میں تنہا ہی نکل جاتا ہوں ساتھ میں تجھ کو بھی لاؤں تو میں لاؤں کیسے یاد آتا ہے تیرا انگلی پکڑ کر چلنا ان جھرونکوں کو بھلاؤں تو بھلاؤں کیسے تیرے ہم عمروں کی محفل ہی سے تو رونق تھی محفلیں اب وہ سجاؤں تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1316 سے 6203