دیکھنے کے لیے اک شرط ہے منظر ہونا
دیکھنے کے لیے اک شرط ہے منظر ہونا دوسری شرط ہے پھر آنکھ کا پتھر ہونا وہاں دیوار اٹھا دی مرے معماروں نے گھر کے نقشے میں مقرر تھا جہاں در ہونا مجھ کو دیکھا تو فلک زاد رفیقوں نے کہا اس ستارے کا مقدر ہے زمیں پر ہونا باغ میں یہ نئی سازش ہے کہ ثابت ہو جائے برگ گل کا خس و خاشاک سے کم تر ...