اندھیرے دن کی سفارت کو آئے ہیں اب کے
اندھیرے دن کی سفارت کو آئے ہیں اب کے ہیں کتنی روشنیاں اشتہار میں شب کے یہاں تو دیکھ لیے ہم نے حوصلے سب کے ملے نہ دوست نہ دشمن ہی اپنے منصب کے بس ایک بات پہ ناکامیوں نے گھیر لیا زباں سے آئے لبوں تک نہ حرف مطلب کے جو لب کشادہ تھے وہ مدعی بنے لیکن جو دل کشادہ تھے وہ کام آ گئے سب ...