شعلہ سا کوئی برق نظر سے نہیں اٹھتا
شعلہ سا کوئی برق نظر سے نہیں اٹھتا اب کوئی دھواں دل کے نگر سے نہیں اٹھتا وہ رونق کاشانۂ دل بجھ سی گئی ہے اب شور کوئی اس بھرے گھر سے نہیں اٹھتا کب طاقت شوریدہ سری سر کو جو ٹکرائیں وہ ضعف ہے اب سر ترے در سے نہیں اٹھتا اس جنبش مژگاں کا ہوں شرمندۂ احساں یہ بار گراں اپنی نظر سے نہیں ...