قومی زبان

کشت ویراں کی طرح تشنہ رہی رات مری

کشت ویراں کی طرح تشنہ رہی رات مری لوٹ آئی ترے در سے بھی مناجات مری تو لہو بن کے رگوں میں مری دوڑا لیکن تشنۂ دید رہی تجھ سے ملاقات مری دل پہ کھلتے نہیں اسرار وجود اور عدم یہی حیران نگاہی ہے مکافات مری کون سمجھا مری بیدار نگاہی کی حدود یوں تو ہر ہاتھ میں تھی شرح حکایات مری گرچہ ...

مزید پڑھیے

چراغ دید جلاؤ کہ خواب لرزاں ہیں

چراغ دید جلاؤ کہ خواب لرزاں ہیں دھوئیں سے شعلہ جگاؤ کہ خواب لرزاں ہیں کوئی غزل کوئی نغمہ کوئی بہار کا گیت فضائے غم کو سناؤ کہ خواب لرزاں ہیں حیات جبر مسلسل سہی مگر اس وقت رباب و ساز اٹھاؤ کہ خواب لرزاں ہیں بہ نام تشنگی لاؤ کوئی دہکتا ایاغ یہ سرد رات جلاؤ کہ خواب لرزاں ہیں کرم ...

مزید پڑھیے

ہم نے اک عمر میں کیا کیا نہ جہاں دیکھے ہیں

ہم نے اک عمر میں کیا کیا نہ جہاں دیکھے ہیں آسماں دیکھے ہیں اور قعر نہاں دیکھے ہیں جن کی باتوں میں تجلی تھی خموشی میں طلسم وہی ارباب ہنر سوختہ جاں دیکھے ہیں نغمہ‌ و شعر و زباں اہل سیاست کے قتیل پوری تہذیب کے مٹنے کے نشاں دیکھے ہیں اقتدار‌‌ و ہوس و شور و منافق نظری جن کا شیوہ ...

مزید پڑھیے

تم اگر دو نہ پیرہن اپنا

تم اگر دو نہ پیرہن اپنا چرخ سے مانگ لوں کفن اپنا آگے کرتے تھے اس طرح پامال یاد تو کیجئے چلن اپنا آج ہم جان دینے آئے ہیں کچھ دکھاتے ہو بانکپن اپنا شانہ زلفوں میں واں نہیں الجھا سانپ دکھلا رہا ہے پھن اپنا یاد رکھیو ہماری پامالی بھولیو مت کبھی چلن اپنا یا کہو ہم کنویں میں ڈوب ...

مزید پڑھیے

پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا

پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا دل تو تھا ہی نہیں چراتے کیا ہجر میں غم بھی ایک نعمت ہے یہ نہ ہوتا تو آج کھاتے کیا مرغ دل ہی کا کچھ رہا مذکورہ اور بے پر کی واں اڑاتے کیا راہ کی چھیڑ چھاڑ خوب نہیں وہ بگڑتا تو ہم بناتے کیا صدمہ حاصل ہوا الم لائے اور کوچہ سے اس کے لاتے کیا شیخ جی کہتے ...

مزید پڑھیے

زلف شب رنگ جو بنائی ہے

زلف شب رنگ جو بنائی ہے ان دنوں شانے کی بن آئی ہے حیف ثابت ہے جیب نے دامن اور جنون میں بہار آئی ہے کہے پروانہ شمع رو تجھ کو اس کی آنکھوں میں چربی چھائی ہے میری ان کی بگاڑ ہونے سے خوب اغیار کی بن آئی ہے پانی مانگے گا کیا دہان زخم تیغ اک آب دار کہانی ہے کلمہ ان بتوں نے ...

مزید پڑھیے

دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہے

دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہے مرحبا پرورش علی ہی تو ہے دل دیا ہے دلاوری ہی تو ہے جان بھی اس کو دیں گے جی ہی تو ہے کیوں حسینوں کی آنکھ سے نہ لڑے میری پتلی کی مردمی ہی تو ہے نہ ہوئی ہم سے عمر بھر سیدھی ابروئے یار کی کجی ہی تو ہے عارض اس کا نہ دیکھوں مر جاؤں زندگی میری عارضی ہی تو ...

مزید پڑھیے

پھر الجھتے ہیں وہ گیسو کی طرح

پھر الجھتے ہیں وہ گیسو کی طرح پھر کجی پر ہیں وہ ابرو کی طرح شہر وحشت میں کہاں گھر کیسا دشت میں رہتے ہیں آہو کی طرح حسن اور عشق کو آؤ تولیں دونوں آنکھوں سے ترازو کی طرح مجھ کو آنکھوں میں جگہ دو چندے پھر گرا دیجیو آنسو کی طرح نہ کہوں گا کہ سنوارو زلفیں پھر الجھ جائیں گے گیسو کی ...

مزید پڑھیے

عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ

عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ سیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخ یہ بھی شوخی نئی نکالی ہے آج دشمن سے کچھ خفا ہے شوخ اپنی آنکھوں میں رات دن رکھ کر میں نے خود اس کو کر دیا ہے شوخ اشک خوں میرے دیکھ کر بولے اس سے تو کچھ مری حنا ہے شوخ آنکھ سے گر کے گود میں مچلا طفل اشک ایسا ہو گیا ہے ...

مزید پڑھیے

ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا

ان کی چٹکی میں دل نہ مل جاتا تو یہ سکہ ہمارا چل جاتا شمع تھا یار جو پگھل جاتا اور میں پروانہ تھا جو جل جاتا کیا کہیں سیر کو وہ گل نہ گیا باغ کا رنگ ہی بدل جاتا گور ہی سے نہ بن پڑی ورنہ اژدہا تو ہمیں نگل جاتا اب تو پستاں نکالئے صاحب اتنے سن میں انار پھل جاتا صدمے گھیرے ہیں ہجر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1278 سے 6203