کوئی یاد ہی رخت سفر ٹھہرے کوئی راہ گزر انجانی ہو
کوئی یاد ہی رخت سفر ٹھہرے کوئی راہ گزر انجانی ہو جب تک مری عمر جوان رہے اور یہ تصویر پرانی ہو کوئی ناؤ کہیں منجدھار میں ڈوبے چاند سے الجھے اور ادھر موجوں کی وہی حلقہ بندی دریا کی وہی طغیانی ہو اسی رات اور دن کے میلے میں ترا ہاتھ چھٹے مرے ہاتھوں سے ترے ساتھ تری تنہائی ہو مرے ساتھ ...