قومی زبان

بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میں

بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میں ذرا سی دیر ہمیں ہو گئی تھی عجلت میں محبت اپنے لیے جن کو منتخب کر لے وہ لوگ مر کے بھی مرتے نہیں محبت میں میں جانتا ہوں کہ موسم خراب ہے پھر بھی کوئی تو ساتھ ہے اس دکھ بھری مسافت میں اسے کسی نے کبھی بولتے نہیں دیکھا جو شخص چپ نہیں رہتا مری حمایت ...

مزید پڑھیے

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے یہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہے بچھڑتی اور ملتی ساعتوں کے درمیان اک پل یہی اک پل بچانے کے لیے سب کچھ گنوایا ہے ادھر یہ دل ابھی تک ہے اسیر وحشت صحرا ادھر اس آنکھ نے چاروں طرف پہرہ بٹھایا ہے تمہیں کیسے بتائیں جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ...

مزید پڑھیے

سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہے

سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہے تو کیا جیتی ہوئی بازی کو ہارا جا رہا ہے سفر آغاز کرنا تھا جہاں سے زندگی کا ہمیں ان راستوں سے اب گزارا جا رہا ہے یہ کن کے پاس گروی رکھ دیا ہم نے سمندر یہ کن لوگوں کو ساحل پر اتارا جا رہا ہے اسے جو بھی ملا بچ کر نہیں آیا ابھی تک مگر جو بچ گیا ملنے ...

مزید پڑھیے

لو کو چھونے کی ہوس میں ایک چہرہ جل گیا

لو کو چھونے کی ہوس میں ایک چہرہ جل گیا شمع کے اتنے قریب آیا کہ سایا جل گیا پیاس کی شدت تھی سیرابی میں صحرا کی طرح وہ بدن پانی میں کیا اترا کہ دریا جل گیا کیا عجب کار تحیر ہے سپرد نار عشق گھر میں جو تھا بچ گیا اور جو نہیں تھا جل گیا گرمی دیدار ایسی تھی تماشا گاہ میں دیکھنے والوں ...

مزید پڑھیے

سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیا

سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیا مری زمیں کے سامنے اک آسمان آ گیا یہ فیصلہ ہوا مری شناخت آئینہ کرے مگر یہ کس کا عکس ہے جو درمیان آ گیا عجیب الجھنوں میں اب کے ساعتیں گزر گئیں نصاب یاد بھی نہیں اور امتحان آ گیا حصار سیل آب سے تو ناؤ بچ گئی مگر ہوا کے ہاتھ ساحلوں پہ بادبان آ ...

مزید پڑھیے

دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہو

دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہو تم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہو سینے پہ ہاتھ رکھ کے بتاؤ مجھے کہ تم جو کچھ دھڑک رہا ہے اسے دل سمجھتے ہو ہر شے کو تم نے فرض کیا اور اس کے بعد سائے کو اپنا مد مقابل سمجھتے ہو دریا تمہیں سراب دکھائی دیا اور اب گرد و غبار راہ کو منزل سمجھتے ...

مزید پڑھیے

میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرے

میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرے میرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرے وہ جنوں خیز مسافت تھی کہ دیکھا ہی نہیں عمر بھر پاؤں سے لپٹی رہی منزل میرے تو ملا ہے تو نکل آئے ہیں دشمن سارے وقت کس کس کو اٹھا لایا مقابل میرے ابر گریہ نے وہ طوفان اٹھائے اب کے میرے دریاؤں کو کم پڑ گئے ساحل ...

مزید پڑھیے

ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں

ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میں سمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میں شکست شب تری تقریب سے ذرا پہلے دیے جلاتی ہوئی شام سے ملا ہوں میں اجل سے پہلے بھی ملتا رہا ہوں پر اب کے بڑے سکوں بڑے آرام سے ملا ہوں میں تری قبا کی مہک ہر طرف نمایاں تھی ہوائے وادئ گل فام سے ملا ہوں میں میں جانتا ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے

کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے تم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھے سنتے ہیں ایسا زمانہ بھی یہاں گزرا ہے حق انہیں ملتا جو حق دار ہوا کرتے تھے تجھ کو بھی زعم سا رہتا تھا مسیحائی کا اور ہم بھی ترے بیمار ہوا کرتے تھے اک نظر روز کہیں جال بچھائے رکھتی اور ہم روز گرفتار ہوا کرتے ...

مزید پڑھیے

کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ

کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ چشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ کب سے راہوں میں تری گرد بنے بیٹھے ہیں تجھ سے ملنے کے لیے وقت کو ٹالے ہوئے لوگ کہیں آنکھوں سے چھلکنے نہیں دیتے تجھ کو کیسے پھرتے ہیں ترے خواب سنبھالے ہوئے لوگ دامن صبح میں گرتے ہوئے تاروں کی طرح جل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1265 سے 6203