اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا
اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا کوئی نیند مثال نہیں بنتی کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتا اک عمر نمو کی خواہش میں موسم کے جبر سہے تو کھلا ہر خوشبو عام نہیں ہوتی ہر پھول گلاب نہیں ہوتا اس لمحۂ خیر و شر میں کہیں اک ساعت ایسی ہے جس میں ہر بات گناہ نہیں ہوتی سب کار ثواب ...