قومی زبان

اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا

اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتا کوئی نیند مثال نہیں بنتی کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتا اک عمر نمو کی خواہش میں موسم کے جبر سہے تو کھلا ہر خوشبو عام نہیں ہوتی ہر پھول گلاب نہیں ہوتا اس لمحۂ خیر و شر میں کہیں اک ساعت ایسی ہے جس میں ہر بات گناہ نہیں ہوتی سب کار ثواب ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا پر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتا راستہ بھی غلط ہو سکتا ہے منزل بھی غلط ہر ستارا تو ستارا بھی نہیں ہو سکتا پاؤں رکھتے ہی پھسل سکتا ہے مٹی ہو کہ ریت ہر کنارا تو کنارا بھی نہیں ہو سکتا اس تک آواز پہنچنی بھی بڑی مشکل ہے اور نہ دیکھے تو ...

مزید پڑھیے

آب و ہوا ہے برسر پیکار کون ہے

آب و ہوا ہے برسر پیکار کون ہے میرے سوا یہ مجھ میں گرفتار کون ہے اک روشنی سی راہ دکھاتی ہے ہر طرف دوش ہوا پہ صاحب رفتار کون ہے ایک ایک کر کے خود سے بچھڑنے لگے ہیں ہم دیکھو تو جا کے قافلہ سالار کون ہے بوسیدگی کے خوف سے سب اٹھ کے چل دیئے پھر بھی یہ زیر سایۂ دیوار کون ہے قدموں میں ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا پر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتا پاؤں رکھتے ہیں پھسل سکتا ہے مٹی ہو کہ ریت ہر کنارا تو کنارا بھی نہیں ہو سکتا اس تک آواز پہنچنی بھی بڑی مشکل ہے اور نہ دیکھے تو اشارہ بھی نہیں ہو سکتا تیرے بندوں کی معیشت کا عجب حال ہوا عیش کیسا کہ گزارا ...

مزید پڑھیے

اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے

اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے یا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائے دیوانے ہیں ہم جھوٹ بہت بولتے ہیں ہم کو سر بازار یہ عزت دی جائے پھر گرد مہ و سال میں اٹ جائیں گے آئینہ بنایا ہے تو صورت دی جائے اصرار ہی کرتے ہو تو اپنا سمجھو دینا ہی اگر ہے تو محبت دی جائے وہ جس نے مجھے قتل پہ ...

مزید پڑھیے

ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نے

ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نے بدن کیا روح میں بھی رت جگا رکھا ہے تم نے کوئی آساں نہیں تھا زندگی سے کٹ کے جینا بہت مشکل دنوں میں رابطہ رکھا ہے تم نے ہم ایسے ملنے والوں کو کہاں اس کی خبر تھی نہ ملنے کا بھی کوئی راستہ رکھا ہے تم نے جنوں کی حالتوں کا ہم کو اندازہ نہیں تھا دیے ...

مزید پڑھیے

چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہے

چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہے یہ روشنی مری دہلیز پر کہاں تک ہے بس ایک تم تھے کہ جو دل کا حال جانتے تھے سو اب تمہیں بھی ہماری خبر کہاں تک ہے مسافران جنوں گرد ہو گئے لیکن کھلا نہیں کہ تری رہ گزر کہاں تک ہے ہر ایک لمحہ بدلتی ہوئی کہانی میں حکایت غم دل معتبر کہاں تک ہے زمیں کی ...

مزید پڑھیے

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے دل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سے پہلے تو رات ہی کاٹے سے نہیں کٹتی تھی اور اب دن بھی گزرتا نہیں آسانی سے ہم نے اک دوسرے کے عکس کو جب قتل کیا آئینہ دیکھ رہا تھا ہمیں حیرانی سے اب کے ہے لب آب ہی مر جائیں گے پیاس ایسی ہے کہ بجھتی ہی نہیں پانی ...

مزید پڑھیے

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے دیے کی لو سے چھلکتا ہے اس کے حسن کا عکس سنگار کرتے ہوئے آئینہ سجاتے ہوئے اب اس جگہ سے کئی راستے نکلتے ہیں میں گم ہوا تھا جہاں راستہ بتاتے ہوئے پکارتے ہیں انہیں ساحلوں کے سناٹے جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ...

مزید پڑھیے

اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میں

اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میں کس کے آنے کی خبر قتل ہوئی ہے مجھ میں سانس لینے سے بھی بھرتا نہیں سینے کا خلا جانے کیا شے ہے جو بے دخل ہوئی ہے مجھ میں جل اٹھے ہیں سر مژگاں تری خوشبو کے چراغ اب کے خوابوں کی عجب فصل ہوئی ہے مجھ میں مجھ سے باہر تو فقط شور ہے تنہائی کا ورنہ یہ جنگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1266 سے 6203