قومی زبان

زماں مکاں سے بھی کچھ ماورا بنانے میں

زماں مکاں سے بھی کچھ ماورا بنانے میں میں منہمک ہوں بہت خود کو لا بنانے میں چراغ عشق بدن سے لگا تھا کچھ ایسا میں بجھ کے رہ گیا اس کو ہوا بنانے میں یہ دل کہ صحبت خوباں میں تھا خراب بہت سو عمر لگ گئی اس کو ذرا بنانے میں گھری ہے پیاس ہماری ہجوم آب میں اور لگا ہے دشت کوئی راستا بنانے ...

مزید پڑھیے

یہ الگ بات کہ وہ مجھ سے خفا رہتا ہے

یہ الگ بات کہ وہ مجھ سے خفا رہتا ہے میں اک انسان ہوں اور مجھ میں خدا رہتا ہے میری باتوں میں بہت اس کی جھلک آتی ہے اس کے لہجے میں مرا ذہن بسا رہتا ہے قید میں اس سے بہادر نہ کوئی دیکھا تھا اب جو آزاد ہے تھوڑا سا ڈرا رہتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں برا ہو لیکن اپنی نظروں میں بھی گر ...

مزید پڑھیے

کہو تو آج بتا دیں تمہیں حقیقت بھی

کہو تو آج بتا دیں تمہیں حقیقت بھی کہ زندگی سے رہی ہے ہمیں محبت بھی تمہارا حسن تو ہے جان اپنے رشتے کی برت رہے ہیں مگر ہم ذرا مروت بھی ہزار چاہیں مگر چھوٹ ہی نہیں سکتی بڑی عجیب ہے یہ مےکشی کی عادت بھی یہ زندگی کوئی محشر سہی مگر یارو سکون بخش ہے ہم کو یہی قیامت بھی ادھار لے کے ...

مزید پڑھیے

کبھی خوابوں میں ملا وہ تو خیالوں میں کبھی

کبھی خوابوں میں ملا وہ تو خیالوں میں کبھی راہ چلتے نہ ملا دن کے اجالوں میں کبھی زندگی ہم سے تو اس درجہ تغافل نہ برت ہم بھی شامل تھے ترے چاہنے والوں میں کبھی جن کا ہم آج تلک پا نہ سکے کوئی جواب خود کو ڈھونڈا کئے ان تلخ سوالوں میں کبھی تھوڑی رسوائی تمہاری بھی تو ہوگی یارو چھپ گئے ...

مزید پڑھیے

وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا

وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا وہ مدتوں نہ ملے دور جا نہیں سکتا وہ ایک یاد جو دل سے مٹی نہیں اب تک وہ ایک نام جو ہونٹوں پہ آ نہیں سکتا وہ اک ہنسی جو کھنکتی ہے اب بھی کانوں میں وہ اک لطیفہ جو اب یاد آ نہیں سکتا وہ ایک خواب جو پھر لوٹ کر نہیں آیا وہ اک خیال جسے میں بھلا نہیں ...

مزید پڑھیے

کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے

کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے اس نے پھر مجھ کو سمیٹا ہے پریشانی سے مجھ پہ کھلتا ہے تری یاد کا جب باب طلسم تنگ ہو جاتا ہوں احساس فراوانی سے آخرش کون ہے جو گھورتا رہتا ہے مجھے دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے میری مٹی میں کوئی آگ سی لگ جاتی ہے جو بھڑکتی ہے ترے چھڑکے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دشت کی ویرانیوں میں خیمہ زن ہوتا ہوا

دشت کی ویرانیوں میں خیمہ زن ہوتا ہوا مجھ میں ٹھہرا ہے کوئی بے پیرہن ہوتا ہوا ایک پرچھائیں مرے قدموں میں بل کھاتی ہوئی ایک سورج میرے ماتھے کی شکن ہوتا ہوا ایک کشتی غرق میری آنکھ میں ہوتی ہوئی اک سمندر میرے اندر موجزن ہوتا ہوا جز ہمارے کون آخر دیکھتا اس کام کو روح کے اندر کوئی ...

مزید پڑھیے

کنار آب ترے پیرہن بدلنے کا

کنار آب ترے پیرہن بدلنے کا مری نگاہ میں منظر ہے شام ڈھلنے کا یہ کیسی آگ ہے مجھ میں کہ ایک مدت سے تماشہ دیکھ رہا ہوں میں اپنے جلنے کا سنا ہے گھر پہ مرا منتظر نہیں کوئی سو اب کے بار میں ہرگز نہیں سنبھلنے کا خود اپنی ذات پہ مرکوز ہو گیا ہوں میں کہ حوصلہ ہی نہیں تیرے ساتھ چلنے کا اب ...

مزید پڑھیے

ہنگامۂ سکوت بپا کر چکے ہیں ہم

ہنگامۂ سکوت بپا کر چکے ہیں ہم اک عمر اس گلی میں صدا کر چکے ہیں ہم اپنے غزال دل کا نہیں مل رہا سراغ صحرا سے شہر تک تو پتا کر چکے ہیں ہم اب تیشۂ نظر سے یہ دل ٹوٹتا نہیں اس آئینے کو سنگ نما کر چکے ہیں ہم ہر بار اپنے پاؤں خلا میں اٹک گئے سو بار خود کو رزق ہوا کر چکے ہیں ہم اب اس کے بعد ...

مزید پڑھیے

جسم کی سطح پہ طوفان کیا جائے گا

جسم کی سطح پہ طوفان کیا جائے گا اپنے ہونے کا پھر اعلان کیا جائے گا ہم رہیں گے ابھی اس آئنہ خانے میں اسیر ابھی کچھ دن ہمیں حیران کیا جائے گا سامنے سے کوئی بجلی سی گزر جائے گی میرے اندر کوئی ہیجان کیا جائے گا منزل خاک پہ جانا ہے اسی شرط کے ساتھ یہ سفر بے سر و سامان کیا جائے گا آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1244 سے 6203