آسیب صفت یہ مری تنہائی عجب ہے
آسیب صفت یہ مری تنہائی عجب ہے ہر سمت تری یاد کی شہنائی عجب ہے اک بچھڑے شناسا سے ملاقات کے با وصف بکھرے ہوئے لمحوں کی شکیبائی عجب ہے اب سلسلۂ رنج و محن ٹوٹ بھی جائے اس بار تو کچھ طرز پذیرائی عجب ہے اب مجھ پہ کھلا اپنے در و بام کا افسوں یوں ہے کہ مرے گھر کی یہ تنہائی عجب ہے سورج ...