قومی زبان

ہم اپنی صورتوں سے مماثل نہیں رہے

ہم اپنی صورتوں سے مماثل نہیں رہے ایک عمر آئنے کے مقابل نہیں رہے مجبوریاں کچھ اور ہی لاحق رہیں ہمیں دل سے ترے خلاف تو اے دل نہیں رہے اب وقت نے پڑھائے تو پڑھنے پڑے تمام اسباق جو نصاب میں شامل نہیں رہے بے چہرگی کا دکھ بھی بہت ہے مگر یہ رنج ہم تیری اک نگاہ کے قابل نہیں رہے عمر رواں ...

مزید پڑھیے

یہ رستہ

ان درختوں کے گہرے گھنے، خواب آلود سائے میں خاموش، حیران چلتا ہوا۔۔۔ ایک رستہ کسی دور کی۔۔۔ روشنی کی طرف جا رہا ہے یہاں سے جو دیکھو تو جیسے۔۔۔ کہیں حد امکاں تلک گم شدہ وقت جیسی اندھیری گپھا ہے یہاں سے جو دیکھو۔۔۔ تو امید جیسا بہت حیرت افزا۔۔۔ عجب سلسلہ ہے جو اس تنگ، تاریک نقطے ...

مزید پڑھیے

شب خزاں

تجھے اعتبار سحر بھی ہے تجھے انتظار بہار بھی مگر اے صدائے امید دل مری زندگی تو قلیل ہے یہ شب خزاں ہے مرے گماں سے عجیب تر کوئی آس پاس نہیں یہاں کوئی شکل ہو جو دل آفریں کوئی نام ہو جو متاع جاں کوئی چاند زینۂ ابر سے اتر آئے اور مجھے تھام لے کوئی خواب رو بڑی گہری نیند سے چونک کر مرا ...

مزید پڑھیے

پذیرائی

دل بڑھا اس کی پذیرائی کو ہاتھوں میں اٹھائے سبز جگنو نقرئی گل سرخ نارنجی سنہری کانپتی لو کا چراغ ایسی گل رو تھی کہ جب آتی نظر کے سامنے ساری سمتوں میں مہک اٹھتے تھے باغ ایسی مہ رخ تھی اندھیرے میں بھی جب دل کے قریب آتا کبھی اس کا خیال اس ادا سے سر پہ رکھے چاند تاروں سے بھرا پورا ...

مزید پڑھیے

سمندر کی خوشبو

سمندر کی خوشبو کہیں دور سے آ رہی ہے، سمندر کی بو سے ہیں بوجھل۔۔۔ نشیلی ہوائیں ہوائیں جو ساحل کی خستہ تمنا سے ٹکرا رہی ہیں ہوائیں پرانے زمانے کے کچھ راز دہرا رہی ہیں یہاں سے ذرا فاصلے پر نگر ہے جہاں لوگ بستے ہیں اپنی خموشی میں ڈوبی ہوئی زندگی کو۔۔۔ سہارا دیے لوگ روتے ہیں۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

اس چہرے پر شام ذرا سی گہری ہے

یہ آنکھیں بالکل ویسی ہیں جیسی مرے خواب میں آتی تھیں پیشانی تھوڑی ہٹ کر ہے پر ہونٹوں پر مسکان کی بنتی مٹتی لہریں ویسی ہیں آواز کا زیر و بم بھی بالکل ویسا ہے اور ہاتھ جنہیں میں خواب میں بھی چھونا چاہوں تو کانپ اٹھوں یہ ہاتھ بھی بالکل ویسے ہیں یہ چہرہ بالکل ویسا ہے پر اس پر چھائی ...

مزید پڑھیے

دل مانگے ہے موسم پھر امیدوں کا

دل مانگے ہے موسم پھر امیدوں کا چار طرف سنگیت رچا ہو جھرنوں کا ہم نے بھی تکلیف اٹھائی ہے آخر آپ برا کیوں مانیں سچی باتوں کا جانے اب کیوں دل کا پنچھی ہے گم سم جب پیڑوں پر شور مچا ہے چڑیوں کا رات گئے تک راہ وہ میری دیکھے گا مجھ پر ہے اک خوف سا طاری راہوں کا میرے ماتھے پر کچھ لمحے ...

مزید پڑھیے

کب اس سے قبل نظر میں گل ملال کھلا

کب اس سے قبل نظر میں گل ملال کھلا کسی کی یاد میں لیکن یہ اب کے سال کھلا عجیب آب و ہوا تھی عجیب تھی مٹی سو دل کے گوشے میں اک پھول بے مثال کھلا میں چھو کے دیکھ رہی تھی کہ سبزۂ رخ پر گلاب سرخ کی صورت ترا جمال کھلا میں دم بخود ہی رہی اور شیشۂ جاں پر مثال ریزۂ خورشید اک وصال کھلا سفر ...

مزید پڑھیے

شجر عشق ہمیں دار کے مانند بھی ہے

شجر عشق ہمیں دار کے مانند بھی ہے دل کسی شاخ طرب ناک سے پیوند بھی ہے دل ناداں سے نہیں اہل جہاں سے پوچھو کوئی میثاق محبت پہ رضامند بھی ہے درگزر بام وفا سے کہ جنوں خیز ہوا یہ چراغ ایک شب وعدہ کا پابند بھی ہے رات تنہائی تعاقب میں مسلسل کوئی چاپ اور جب علم ہو آگے یہ گلی بند بھی ...

مزید پڑھیے

وہ غم قبول ہے جو تری چشم سے ملے

وہ غم قبول ہے جو تری چشم سے ملے ہم کو ہنر تمام اسی زخم سے ملے روشن ہے ساری زندگی اس دل کی آگ سے اور دل کو آنچ اک سخن گرم سے ملے جب رنگ و نور و نغمہ نہیں اختیار میں اک اعتبار شوق ہی اس بزم سے ملے دل کو لپیٹ لیتا ہے اک ریشمیں خیال جب بھی نگاہ اس نگہ نرم سے ملے اس دل کے سارے خواب محبت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1234 سے 6203