قومی زبان

اٹھا خیمہ یہاں سے کوچ کر آہستہ آہستہ

اٹھا خیمہ یہاں سے کوچ کر آہستہ آہستہ ابھی تو خیر ممکن ہے سفر آہستہ آہستہ دریچوں کی ابھی تو روشنی گلیوں میں باقی ہے مگر جب بند ہو جائیں گے در آہستہ آہستہ بیابانوں سے نکلے اور سمندر تک چلے آئے کہ اب کرنا ہے پانی کا سفر آہستہ آہستہ ادھر سے قیس ہی کیا ایک پوری قوم گزری ہے یہ بیٹھے ...

مزید پڑھیے

جان جہاں جان جاں جان جگر مرحبا

جان جہاں جان جاں جان جگر مرحبا جوئے بدن آفریں موج کمر مرحبا لعل یمن ایک سنگ در عدن ایک سنگ ایک لب سرخ رنگ رشک گہر مرحبا پیرہن نیم پوش گل بدن نیم ہوش زلف قبا ہو گئی تا بہ کمر مرحبا ساقیٔ صندل جبیں بنت عنب آتشیں آگ ہوئی شبنمیں دست ہنر مرحبا جلوہ کرے حشر خیز پردہ کرے تیز تیز موئے ...

مزید پڑھیے

اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید

اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید تھکی تھکی سے کہیں کائنات ہے شاید رکی رکی سی یہ سانسیں جھکی جھکی سی نگاہ اس ایک بات میں اک اور بات ہے شاید میں تم کو جیت رہا ہوں تمہیں پتا ہی نہیں یہ اور بات کہ میری ہی مات ہے شاید کہاں کا عشق مگر اس کو کون سمجھائے پری خصال فرشتہ صفات ہے شاید زمین ...

مزید پڑھیے

وحشت کو ثناؔ چھپائے رکھنا

وحشت کو ثناؔ چھپائے رکھنا دستار و قبا سجائے رکھنا دیوانے ہی تیرے جانتے ہیں صحراؤں کو بھی بسائے رکھنا آنکھوں کے ستارے روپ کا چاند یہ سارے دیے جلائے رکھنا سانسوں کی مہک بدن کی خوشبو ہونٹوں کے کنول کھلائے رکھنا پلکوں کی یہ چھاؤں روپ کی دھوپ ماتھے کی سحر جگائے رکھنا کچھ گرم ...

مزید پڑھیے

دھرتی کو گگن نہیں کرو گے

دھرتی کو گگن نہیں کرو گے ملنے کا جتن نہیں کرو گے دیکھو مجھے زیست کر رہا ہوں تم پیار سجن نہیں کرو گے اب رات اداس ہو چلی ہے چپکے سے سخن نہیں کرو گے رہتا نہیں بس میں دل ہمارا قابو یہ ہرن نہیں کرو گے تصویر تو بن چکی تمہاری اب دو دو بچن نہیں کرو گے پھولوں سے کلام کر رہے ہو بلبل سے سخن ...

مزید پڑھیے

جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں

جسم کی قید میں ہوں کشمکش ذات میں ہوں ایک سکے کی طرح کاسۂ خیرات میں ہوں تم سے ملنے کے لیے تم سے جدا ہوتا ہوں کیا کروں جان وفا نرغۂ حالات میں ہوں کل کا دن کیوں نہ رکھیں ترک تعلق کے لیے آج کچھ میں بھی تمہاری طرح جذبات میں ہوں کار تیشہ بھی وہی ہے مرا پیشہ بھی وہی میں ابھی دور غلامی ...

مزید پڑھیے

سفینہ موج بلا کے لیے اشارہ تھا

سفینہ موج بلا کے لیے اشارہ تھا نہ پھر ہوا تھی موافق نہ پھر کنارا تھا ہم اپنے جلتے ہوئے گھر کو کیسے رو لیتے ہمارے چاروں طرف ایک ہی نظارا تھا یہ واقعہ جو سنیں گے تو لوگ ہنس دیں گے ہمیں ہماری ہی پرچھائیوں نے مارا تھا طلسم توڑ دیا اک شریر بچے نے مرا وجود اداسی کا استعارا تھا یہ ...

مزید پڑھیے

شہر بھر کے آئینوں پر خاک ڈالی جائے گی

شہر بھر کے آئینوں پر خاک ڈالی جائے گی آج پھر سچائی کی صورت چھپا لی جائے گی اس کی آنکھوں میں لپکتی آگ ہے بے حد شدید سوچتا ہوں یہ قیامت کیسے ٹالی جائے گی مشتعل کر دے گا اس کو اک ذرا سا احتجاج مجھ پہ کیا گزری ہے اس پر خاک ڈالی جائے گی قید کا احساس بھی ہوگا نہ ہم کو دوستو یوں ہمارے ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کی رتیں بدلے زمانے ہو گئے

آرزوؤں کی رتیں بدلے زمانے ہو گئے زندگی کے ساتھ سب رشتے پرانے ہو گئے آبلہ پائی نے ایسی شوخیاں کیں ریت سے وقت کے تپتے ہوئے صحرا سہانے ہو گئے چند لمحے کو تو خوابوں میں بھی آ کر جھانک لے زندگی تجھ سے ملے کتنے زمانے ہو گئے رات دروازے پہ بیٹھی تھی سو بیٹھی ہی رہی گھر ہمارے روشنی کے ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ سر اتر جائیں

اس سے پہلے کہ سر اتر جائیں ہم اداسی میں رنگ بھر جائیں زخم مرجھا رہے ہیں رشتوں کے اب اٹھیں دوستوں کے گھر جائیں غم کا سورج تو ڈوبتا ہی نہیں دھوپ ہی دھوپ ہے کدھر جائیں اپنا احساس بن گیا دشمن جب بھی چاہا کہ زخم بھر جائیں وار چاروں طرف سے ہیں ہم پر شاید اس معرکے میں سر جائیں سامنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1211 سے 6203