اٹھا خیمہ یہاں سے کوچ کر آہستہ آہستہ
اٹھا خیمہ یہاں سے کوچ کر آہستہ آہستہ ابھی تو خیر ممکن ہے سفر آہستہ آہستہ دریچوں کی ابھی تو روشنی گلیوں میں باقی ہے مگر جب بند ہو جائیں گے در آہستہ آہستہ بیابانوں سے نکلے اور سمندر تک چلے آئے کہ اب کرنا ہے پانی کا سفر آہستہ آہستہ ادھر سے قیس ہی کیا ایک پوری قوم گزری ہے یہ بیٹھے ...