نظم
چپ رہوں گا تو زباں یوں بھی رہے گی بے کار اور بولوں تو زباں کاٹ ہی لی جائے گی کیوں نہ کچھ بول ہی لوں میں کہ پس قتل زباں یہ تو افسوس نہ ہوگا کہ زباں رہتے ہوئے مجھ کو اظہار خیالات کی جرأت نہ ہوئی مجھ سے اس ظلم و ستم کی بھی شکایت نہ ہوئی
چپ رہوں گا تو زباں یوں بھی رہے گی بے کار اور بولوں تو زباں کاٹ ہی لی جائے گی کیوں نہ کچھ بول ہی لوں میں کہ پس قتل زباں یہ تو افسوس نہ ہوگا کہ زباں رہتے ہوئے مجھ کو اظہار خیالات کی جرأت نہ ہوئی مجھ سے اس ظلم و ستم کی بھی شکایت نہ ہوئی
آنکھوں میں اگر آپ کی صورت نہیں ہوتی اس دل میں محبت کسی صورت نہیں ہوتی جب تک پس پردہ وہ چھپے بیٹھے رہیں گے کچھ بھی یہاں ہو جائے قیامت نہیں ہوتی دیکھے جو تجھے لوگ تو سمجھے مرے اشعار لفظوں سے تو شعروں کی وضاحت نہیں ہوتی کیا اور کوئی کام کرے چھوڑیئے صاحب بیکاری سے دنیا میں فراغت ...
تسکین مرگ بھول گیا اضطراب میں اللہ پڑ گیا مرا دل کس عذاب میں اللہ رے فروغ رخ برق تاب میں مستی میں ہے شباب کہ مستی شباب میں اے دست شوق آج وہ آئے ہیں خواب میں دامن نہ چھوٹ جائے کہیں اضطراب میں ہر نقشۂ خیال بنا اور مٹ گیا امید اب کہاں دل خانہ خراب میں جویائے عیش و طالب راحت نہیں ...
اس عشق کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں ہاں اے ہوس خام میں کچھ سوچ رہا ہوں خالی ہوئے سب جام نہیں کوئی بھی مے کش اے درد تہ جام میں کچھ سوچ رہا ہوں جی بھر کے تجھے آج میں دیکھوں کہ نہ دیکھوں اے حسن لب بام میں کچھ سوچ رہا ہوں اپنے دل بیتاب سے میں خود ہوں پریشاں کیا دوں انہیں الزام میں کچھ ...
ذرا سوز دل بزم کا ساز دینا کہ خود بولنا ہے خود آواز دینا عجب ذوق پنہاں ہے رنگ تپش میں تسلی نہ اے شوخ انداز دینا کبھی ڈھونڈھنا گو شہائے حرم میں کبھی دیر میں جا کے آواز دینا گلوں کے ہیں آغوش وا بہر رخصت ذرا بڑھ کے بلبل کو آواز دینا نہ لے میرا ایمان اے بے نیازی کہ ہے نذر جلوہ گہہ ...
در مے کدہ ہے کھلا ہوا سر چرخ آج گھٹا بھی ہے چلے دور ساقیٔ دل ربا کہ چمن میں رقص صبا بھی ہے غم زندگی سہی جاں گسل مگر اس سے کوئی بچا بھی ہے یہی غم ہے راز نشاط دل یہی زندگی کا مزا بھی ہے یہی زخم دل جو نصیب ہے یہی سوز دل کا نقیب ہے یہ مرے خلوص کا رنگ ہے کسی نازنیں کی عطا بھی ہے ہے مری ...
صحرا کوئی بستی کوئی دریا ہے کہ تم ہو سب کچھ مری نظروں کا تماشا ہے کہ تم ہو لوٹ آئے ہیں صحرا سے سبھی لوٹنے والے اس بار مرے شہر میں اچھا ہے کہ تم ہو تم ہو کہ مرے لب پہ دعا رہتی ہے کوئی آنکھوں نے کوئی خواب سا دیکھا ہے کہ تم ہو جب بھی کوئی دیتا ہے در خواب پہ دستک میں سوچنے لگتا ہوں کہ ...
تیرے ہونے سے بھی اب کچھ نہیں ہونے والا مجھ میں باقی ہی نہیں ہے کوئی رونے والا اس سے ملتا ہوں تو لگتا ہے کہ میرے اندر نیند سے جاگ گیا ہے کوئی سونے والا مجھ کو اس کھیل کے آداب سبھی ہیں معلوم میں تو اس کھیل میں شامل نہیں ہونے والا
تابش گیسوئے خم دار لئے پھرتا ہے کوئی اس شہر میں تلوار لئے پھرتا ہے بات تو یہ ہے کہ وہ گھر سے نکلتا بھی نہیں اور مجھ کو سر بازار لئے پھرتا ہے جسم کے ساتھ تو رہتا ہوں میں اس پار مگر روح کے ساتھ وہ اس پار لئے پھرتا ہے
آنکھ ہی آنکھ تھی منظر بھی نہیں تھا کوئی تو نہیں تیرے برابر بھی نہیں تھا کوئی میرے باہر تو کسی موت کا سناٹا تھا ایسی تنہائی کہ اندر بھی نہیں تھا کوئی کیا تماشا ہے کہ پھر جسم مرا بھیگ گیا راستے میں تو سمندر بھی نہیں تھا کوئی