اشک ان سیپیوں میں بھر جائیں
اشک ان سیپیوں میں بھر جائیں تو وہاں ڈوبنے گہر جائیں خامشی اب تری وضاحت کو تیرے منبر سے ہم اتر جائیں دشت سب کے لیے نہیں وحشت کچھ طلب گار اپنے گھر جائیں راستے میرے پاس بیٹھ رہیں فاصلے دور سے گزر جائیں تتلیاں رنگ جھاڑ لیں اپنے پھر ترے ہونٹ پر اتر جائیں ہم بھی دریا کے نا دہندہ ...