قومی زبان

اشک ان سیپیوں میں بھر جائیں

اشک ان سیپیوں میں بھر جائیں تو وہاں ڈوبنے گہر جائیں خامشی اب تری وضاحت کو تیرے منبر سے ہم اتر جائیں دشت سب کے لیے نہیں وحشت کچھ طلب گار اپنے گھر جائیں راستے میرے پاس بیٹھ رہیں فاصلے دور سے گزر جائیں تتلیاں رنگ جھاڑ لیں اپنے پھر ترے ہونٹ پر اتر جائیں ہم بھی دریا کے نا دہندہ ...

مزید پڑھیے

پیکر سے حسن جھانکتے بولا کہ آئیے

پیکر سے حسن جھانکتے بولا کہ آئیے دریا کے ساتھ آپ بھی صحرا بنائیے پھر یوں ہوا ہم اس میں کہیں محو ہو گئے اس نے کہا تھا وقت کو سکتے میں لائیے اے ساکنان چشم چلیں صلح کیجیے اٹھیے ہمارے خواب کو سینے لگائیے اس کاسۂ حروف کی سنتا نہیں کوئی دست دعا سمیٹیے اور لوٹ جائیے وقت سفر خموش ہیں ...

مزید پڑھیے

پیار کی تیرے نشانی ہائے ہائے

پیار کی تیرے نشانی ہائے ہائے میری افسردہ جوانی ہائے ہائے جل رہا ہوں کب سے اپنی آگ میں سوز آلام نہانی ہائے ہائے کہہ رہے ہیں یہ مرے موئے سفید کیا ہوئی تیری جوانی ہائے ہائے ساقیا خالص پلا خالص پلا آگ میں شامل ہو پانی ہائے ہائے تھا کوئی پہلو میں گردش میں تھا جام کیا تھا دور ...

مزید پڑھیے

اب وہ ہم سے ملا نہیں کرتے

اب وہ ہم سے ملا نہیں کرتے ہم بھی کوئی گلہ نہیں کرتے زخم دل بھرتے بھرتے بھرتے ہیں اتنی جلدی بھرا نہیں کرتے لوگ وہ شاخ کاٹ دیتے ہیں پھول جس پر کھلا نہیں کرتے مت بجھاؤ دیے امیدوں کے یہ دیے پھر جلا نہیں کرتے ایک مدت سے وہ نہیں آئے ہم بھی اب حوصلہ نہیں کرتے آگ بجھتی ہے دل کی رونے ...

مزید پڑھیے

کوشش بھی کی تو دل سے نہ اس کو بھلا سکے

کوشش بھی کی تو دل سے نہ اس کو بھلا سکے اور اس میں راز کیا ہے ابھی تک نہ پا سکے میری سنو کہ چاہ نہیں بے دلوں کا کام وہ جائے اس گلی میں جو خوں میں نہا سکے قید قفس میں طاقت پرواز مٹ گئی چھٹ تو گئے پہ سوئے نشیمن نہ جا سکے آہوں سے کچھ ہوا نہ تڑپنے سے کچھ بنا آنسو بھی دل کی آگ نہ اب تک ...

مزید پڑھیے

شکست دل کا فسانہ سنا کے دیکھوں گا

شکست دل کا فسانہ سنا کے دیکھوں گا میں ظرف حسن کو بھی آزما کے دیکھوں گا عجب نہیں کہ اسی طرح نام رہ جائے تمہاری راہ میں خود کو مٹا کے دیکھوں گا نہ جانے کیوں نہیں بدلے ابھی مرے حالات شریک حال اب ان کو بنا کے دیکھوں گا سنا یہ ہے کہ ہر اک شے میں ہے ترا جلوہ میں اب حجاب نظر کو اٹھا کے ...

مزید پڑھیے

مائل ہوا جفا پہ وہ ترک وفا کے بعد

مائل ہوا جفا پہ وہ ترک وفا کے بعد باد سموم آئی ہے موج صبا کے بعد دیکھا جسے بغور وہی سر کشیدہ تھا جیسے کہ مشت خاک ہو سب کچھ خدا کے بعد چاہا یہ تھا کچھ اور بھی حاصل ہو قرب یار وہ اور کھنچ گیا یہ اثر تھا دعا کے بعد اب تو مریض عشق سے مایوس ہے طبیب درماں ہے موت ہی مرض لا دوا کے بعد صرف ...

مزید پڑھیے

مرحلے آسان سارے ہو گئے

مرحلے آسان سارے ہو گئے تم ہمارے ہم تمہارے ہو گئے آپ سے ملنا خوشی کی بات ہے آپ تو آنکھوں کے تارے ہو گئے مٹ گئیں محرومیاں اور فاصلے سب سے چھٹ کر وہ ہمارے ہو گئے آپ کے آتے ہی تاریکی گئی دل میں روشن چاند تارے ہو گئے آئی جب گرداب میں کشتی مری دور نظروں سے کنارے ہو گئے اشک تھے ...

مزید پڑھیے

میرے افکار و خیالات کا محور تم ہو

میرے افکار و خیالات کا محور تم ہو الغرض میری ہر اک بات کا محور تم ہو میرے دن رات ہیں منسوب تمہیں سے بخدا دن کا محور بھی ہو تم رات کا محور تم ہو کیوں نہ مقبول زمانہ ہوں حکایات مری میری تابندہ حکایات کا محور تم ہو یہ حقیقت وہی سمجھیں گے جو ہیں اہل نظر میرے سب کشف و کرامات کا محور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1179 سے 6203