قومی زبان

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص آسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرص ممکن نہیں ہے یہ کہ بھرے کاسۂ طمع دن میں کروڑ گھر جو پھرا دے گدائے حرص انساں نہ ہوں ذلیل زمانے کے ہاتھ سے ذلت کسی کو کوئی نہ دیوے سوائے حرص کر منہ کو ٹک بسوے قناعت یہ حرف مان رہتی ہے لاکھ طرح کی آفت قفائے ...

مزید پڑھیے

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا ہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخا جس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا برہم کرے جمعیت کونین جو پل میں لٹکا وہ تری زلف پریشان میں دیکھا واعظ تو سنے بولے ہے جس روز کی باتیں اس روز کو ہم نے شب ہجران میں دیکھا اے زخم ...

مزید پڑھیے

اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا

اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا اس دل کو کیا کہوں کہ دوانے نے کیا کیا یاں تک ستانا مج کو کہ رو رو کہے تو ہائے یارو نہ تم سنا کہ فلانے نے کیا کیا پردہ تو راز عشق سے اے یار اٹھ چکا بے سود ہم سے منہ کے چھپانے نے کیا کیا آنکھوں کی رہبری نے کہوں کیا کہ دل کے ساتھ کوچے کی اس کے راہ ...

مزید پڑھیے

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہ کافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے پایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر ...

مزید پڑھیے

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے دو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کا گزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے تار نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دل آنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے جو کچھ ہے رنگ اس کا سو ہے نظر میں ...

مزید پڑھیے

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا لذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویا تصویر مری تجھ بن مانیؔ نے جو کھینچی تھی انداز سمجھ اس کا بہزادؔ بہت رویا نالے نے ترے بلبل نم چشم نہ کی گل کی فریاد مری سن کر صیاد بہت رویا جوئیں پڑی بہتی ہیں جا دیکھ گلستاں میں تجھ قد سے خجل ہو کر شمشاد بہت ...

مزید پڑھیے

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا پردے کو تعین کے در دل سے اٹھا دے کھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ جوں شمع حرم رنگ جھلکتا ہے بتاں کا اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن جب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں ...

مزید پڑھیے

یہ بے موسم جو پروائی بہت ہے

یہ بے موسم جو پروائی بہت ہے سرور درد تنہائی بہت ہے شریک غم نہ ہو کوئی تو اچھا اکیلی ہو تو تنہائی بہت ہے عبث شکوہ کی بوندیں ڈھونڈھتے ہو مرے ہونٹوں کی گہرائی بہت ہے تو کیا میں دشمنوں میں آ گیا ہوں یہاں تو شور پسپائی بہت ہے وہ چلتا ہے ہمیشہ بھیڑ لے کر اسے احساس تنہائی بہت ...

مزید پڑھیے

رہ کے خاموش بھی اعلان بہت کرتا ہے

رہ کے خاموش بھی اعلان بہت کرتا ہے آئنہ چہروں کا نقصان بہت کرتا ہے آؤ صحرا میں یہ دیوانے سے چل کر پوچھیں پھول کیوں چاک گریبان بہت کرتا ہے روشنی لکھ نہیں سکتا کسی قسمت میں چراغ رات آتی ہے تو احسان بہت کرتا ہے آؤ اب عقل کی میزان پہ تولیں اس کو وہ وفاداری کا اعلان بہت کرتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

اک بات بہت خاص تھی چہروں کے سفر میں

اک بات بہت خاص تھی چہروں کے سفر میں ٹوٹے ہوئے آئنے ملے راہ گزر میں رہتا ہوں اجالوں کے اندھیروں کے سفر میں یہ کس نے مجھے بانٹ دیا شام و سحر میں دیوانگئ شوق کی عظمت ہے نظر میں صحراؤں کی تصویر لگا رکھی ہے گھر میں جب تک کہ نہ آ جاؤں میں ساحل کی نظر میں رہنے دے مجھے گردش تقدیر بھنور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1152 سے 6203