جب نظر اس کی آن پڑتی ہے
جب نظر اس کی آن پڑتی ہے زندگی تب دھیان پڑتی ہے جھیل لیتے ہیں عاشق اے فرہاد جس کے سر جیسی آن پڑتی ہے ہے جفا سے غرض اسے اتنی کہ وفا امتحان پڑتی ہے نظر ان مہ وشاں کی ہے ظالم کیا غضب آن بان پڑتی ہے قد زاہد نظر میں چلے بعد اتری سی کچھ کمان پڑتی ہے بات اس دل کے درد کی یارو گفتگو میں ...