قومی زبان

وہی ہے دشت سفر رہ گزر سے آگے بھی

وہی ہے دشت سفر رہ گزر سے آگے بھی وہی خلا ہے حدود نظر سے آگے بھی وہ آفتاب اسی صحن میں معلق ہے اگرچہ گھر ہیں بہت اس کے گھر سے آگے بھی ہمارے دم سے ہے قائم زمیں کی زرخیزی ہمارا فیض ہے شاخ شجر سے آگے بھی تلاش نور میں ہم بارہا نکل آئے نظر کے ساتھ حدود سفر سے آگے بھی غلط امید نہ باندھ ...

مزید پڑھیے

لہو میں پھول کھلانے کہاں سے آتے ہیں

لہو میں پھول کھلانے کہاں سے آتے ہیں نئے خیال نہ جانے کہاں سے آتے ہیں یہ کون لوگ ہیں ہر شام طاق مژگاں پر چراغ یاد جلانے کہاں سے آتے ہیں خزاں کی شاخ میں حیراں ہے آنکھ کی کونپل پلٹ کے عہد پرانے کہاں سے آتے ہیں سمندروں کو سکھاتا ہے کون طرز خرام زمیں کی تہہ میں خزانے کہاں سے آتے ...

مزید پڑھیے

وہ چراغ سا کف رہ گزار میں کون تھا

وہ چراغ سا کف رہ گزار میں کون تھا میں کہاں تھا اور مرے انتظار میں کون تھا کوئی دھول اڑتی تھی راستوں پہ نہ کھل سکا وہ غنیم تھا کہ کمک غبار میں کون تھا کوئی شام حلقۂ دوستاں میں گزارتا جسے جا کے ملتا میں اس دیار میں کون تھا مرے خواب کس نے چرا لیے سر شام غم مری عمر جس کے تھی اختیار ...

مزید پڑھیے

شکوۂ آب میں گم تھے جہت نشاں میرے

شکوۂ آب میں گم تھے جہت نشاں میرے ہوا نے رکھ دیئے تہہ کر کے بادباں میرے سحر کو ساتھ اڑا لے گئی صبا جیسے یہ کس نے کر دیئے رستے دھواں دھواں میرے ترے اشارۂ ابرو پہ رت بدلتی ہے بہار ہے نہ تسلط میں ہے خزاں میرے اترنے والے سفینوں میں چھید کرتے گئے ڈبو گئے مجھے ساحل پہ مہرباں ...

مزید پڑھیے

زندگی کے کٹہرے میں اک بے خطا آدمی کی طرح

زندگی کے کٹہرے میں اک بے خطا آدمی کی طرح ہم مخاطب ہوئے آپ سے بے نوا آدمی کی طرح دوریوں سے ابھرتا ہوا عکس تصویر بنتا گیا گفتگو رات کرتی تھی ہم سے ہوا آدمی کی طرح کون کیا سوچتا ہے ہمارے رویوں پہ سوچا نہیں عمر ہم نے گزاری ہے اک مبتلا آدمی کی طرح روزنوں تک سے کوئی مکیں جھانکتا یہ ...

مزید پڑھیے

ہوا نقیب بہاراں ابھی نہیں اے دل

ہوا نقیب بہاراں ابھی نہیں اے دل یہ رت بدلنے کا امکاں ابھی نہیں اے دل فراق نغمہ سے میرے ہی لب ملول نہیں کوئی پرندہ غزل خواں ابھی نہیں اے دل ابھی کچھ اور خجل ہو رہ تمنا پر تو اس کے لطف کا عنواں ابھی نہیں اے دل اسے بھلانے میں کچھ وقت تو لگے گا مجھے یہ کام اتنا بھی آساں ابھی نہیں اے ...

مزید پڑھیے

دیوار پہ رکھا ہوا مٹی کا دیا میں

دیوار پہ رکھا ہوا مٹی کا دیا میں سب کچھ کہا اور رات سے کچھ بھی نہ کہا میں کچھ اور بھی مسکن تھے مرے دل کے علاوہ لگتا ہے کہیں اور بھی مسمار ہوا میں اس دکھ کو تو میں ٹھیک بتا بھی نہیں پاتا میں خود کو میسر تھا مگر مل نہ سکا میں جاگا ہوں مگر خواب کی دہشت نہیں جاتی کیا دیکھتا ہوں یار ...

مزید پڑھیے

شام سے گہرا چاند سے اجلا ایک خیال

شام سے گہرا چاند سے اجلا ایک خیال رات ہوئی اور پھر آ پہنچا ایک خیال دن ڈوبے تو دل میں ڈوبتا جاتا ہے سورج کی مانند سنہرا ایک خیال میرے حصے میں وہ شخص بس اتنا ہے تاریکی میں جلتا بجھتا ایک خیال جھیلیں اور پرندے اس میں رہتے ہیں میری دنیا ایک دریچہ ایک خیال آخر آخر ریت میں گم ہو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک لمحۂ موجود انتظار میں تھا

ہر ایک لمحۂ موجود انتظار میں تھا میں اگلے پل کی طرح وقت کے غبار میں تھا ہر اک افق پہ مسلسل طلوع ہوتا ہوا میں آفتاب کے مانند رہ گزار میں تھا خود اپنے آپ میں الجھا ہوا تھا میرا وجود میں چاک چاک گریباں کے تار تار میں تھا جو اس کی خوش سخنی تک رسائی چاہتی تھی مرا وجود بھی لفظوں کی اس ...

مزید پڑھیے

کچھ اور اکیلے ہوئے ہم گھر سے نکل کر

کچھ اور اکیلے ہوئے ہم گھر سے نکل کر یہ لہر کہاں جائے سمندر سے نکل کر معلوم تھا ملنا ترا ممکن نہیں لیکن چاہا تھا تجھے میں نے مقدر سے نکل کر عالم میں کئی اور بھی عالم تھے سو میں نے دیکھا نہیں اس مرکز و محور سے نکل کر اب دیکھیے کس شخص کا ہم دوش بنے وہ جھونکے کی طرح میرے برابر سے نکل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1138 سے 6203