قومی زبان

کبھی سراب کرے گا کبھی غبار کرے گا

کبھی سراب کرے گا کبھی غبار کرے گا یہ دشت جاں ہے میاں یہ کہاں قرار کرے گا ابھی یہ بیج کے مانند پھوٹتا ہوا دکھ ہے بہت دنوں میں کوئی شکل اختیار کرے گا یہ خود پسند سا غم ہے سو یہ امید بھی کم ہے کہ اپنے بھید کبھی تجھ پہ آشکار کرے گا تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے تمام عمر مرا کون ...

مزید پڑھیے

اپنا گریہ کس کے کانوں تک جاتا ہے

اپنا گریہ کس کے کانوں تک جاتا ہے گاہے گاہے اپنی جانب شک جاتا ہے پکا رستہ کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی جیسے کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے یاروں اور پیاروں کے ہوتے ہوئے بھی کوئی آتا ہے اور سارا شہر مہک جاتا ہے عمر کٹی ہے شریانوں کے کٹتے کٹتے مولا کتنا گہرا یا ناوک جاتا ہے کوئی تو ہے جو ...

مزید پڑھیے

بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں

بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں کہ سچ تو یہ ہے وہ اک شخص میرا تھا بھی نہیں میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں عجیب راہ گزر تھی کہ جس پہ چلتے ہوئے قدم رکے بھی نہیں راستا کٹا بھی نہیں دھواں سا کچھ تو میاں برف سے بھی اٹھتا ہے سو دل جلوں کا ...

مزید پڑھیے

ایک کتاب سرہانے رکھ دی ایک چراغ ستارا کیا

ایک کتاب سرہانے رکھ دی ایک چراغ ستارا کیا مالک اس تنہائی میں تو نے کتنا خیال ہمارا کیا یہ تو بس اک کوشش سی تھی پہلے پیار میں رہنے کی سچ پوچھو تو ہم لوگوں میں کس نے عشق دوبارہ کیا چند ادھورے کاموں نے کچھ وقت گرفتہ لوگوں نے دن پرزے پرزے کر ڈالا رات کو پارہ پارہ کیا دل کو اک صورت ...

مزید پڑھیے

حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا

حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا شروع اس نے کیا اختتام میں نے کیا مجھے بھی ترک محبت پہ حیرتیں ہیں رہیں جو کام میرا نہیں تھا وہ کام میں نے کیا وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا بہت دنوں مرے چہرے پہ کرچیاں سی رہیں شکست ذات کو آئینہ فام میں نے ...

مزید پڑھیے

نظروں کی طرح لوگ نظارے کی طرح ہم

نظروں کی طرح لوگ نظارے کی طرح ہم بھیگی ہوئی پلکوں کے کنارے کی طرح ہم یہ روپ تو سورج کو بھی حاصل نہیں ہوتا کچھ دیر رہے صبح کے تارے کی طرح ہم ہم نے بھی تو اک عمر یہ غم سینت کے رکھے اب کیا ہے جو بھاری ہیں خسارے کی طرح ہم اک قوم ہے چاندی کی جو مٹی پہ کھنچی ہے صحرا میں ہیں بہتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

گزر چلی ہے شب دل فگار آخری بار

گزر چلی ہے شب دل فگار آخری بار بچھڑنے والے ہیں یاروں سے یار آخری بار دمک رہا ہے سحر کی جبیں پہ بوسۂ شب تھپک رہی ہے صبا روئے یار آخری بار ذرا سی دیر کو ہے پتیوں پہ شیشۂ نم گزر رہی ہے کرن آر پار آخری بار یہ بات خیموں کے جلتے دیے بھی جانتے تھے کہ ہم کو بجھنا ہے ترتیب وار آخری ...

مزید پڑھیے

متاع حرف بھی خوشبو کے ماسوا کیا ہے

متاع حرف بھی خوشبو کے ماسوا کیا ہے ہوا کے رخ پہ نہ جاؤں تو راستا کیا ہے میں زرد بیج ہوں اور سبز ہونا چاہتا ہوں مری زمیں تری مٹی کا مشورہ کیا ہے یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے بکھر رہا ہوں تری طرح میں بھی اے زر گل سو تجھ سے پوچھتا ہوں تیرا ...

مزید پڑھیے

نظر کے بھید سب اہل نظر سمجھتے ہیں

نظر کے بھید سب اہل نظر سمجھتے ہیں جو بے خبر ہیں انہیں بے خبر سمجھتے ہیں نہ ان کی چھاؤں میں برکت نہ برگ و بار میں فیض وہ خود نمود جو خود کو شجر سمجھتے ہیں انھوں نے جھکتے ہوئے پیڑ ہی نہیں دیکھے جو اپنے کاغذی پھل کو ثمر سمجھتے ہیں حصار جاں در و دیوار سے الگ ہے میاں ہم اپنے عشق کو ہی ...

مزید پڑھیے

بادل کی طرح رنج فشانی کریں ہم بھی

بادل کی طرح رنج فشانی کریں ہم بھی شاید کبھی اس آگ کو پانی کریں ہم بھی اب سلسلۂ قصۂ شب ٹوٹ رہا ہے اب اذن عطا ہو تو کہانی کریں ہم بھی ہم کو بھی کبھی دیکھ ہواؤں کے سفر میں صحرا کی طرح نقل مکانی کریں ہم بھی ایسا ہے کہ سکوں کی طرح ملک سخن میں جاری کوئی اک یاد پرانی کریں ہم بھی اس لمحۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1139 سے 6203