قومی زبان

کس شخص کی تلاش میں سر پھوڑتی رہی

کس شخص کی تلاش میں سر پھوڑتی رہی سنسان جنگلوں میں ہوا چیختی رہی ماتھے پہ دھول ہاتھ میں کانٹے لیے حیات صحرا سے خوشبوؤں کا پتہ پوچھتی رہی دل بجھ گیا تو رات کی صورت تھی زندگی جب تک یہ اک چراغ رہا روشنی رہی میں آج بھی نہ اس سے کوئی بات کر سکا لفظوں کے پتھروں میں تمنا دبی رہی سنسان ...

مزید پڑھیے

ہر سفر کے بعد ویسا ہی سفر رکھا گیا

ہر سفر کے بعد ویسا ہی سفر رکھا گیا اور پھر مقسوم میرا در بدر رکھا گیا عرصۂ دشت طلب کو انتہا بخشی گئی مہلت عمر رواں کو مختصر رکھا گیا ہم کہاں سینے کی تہ میں یہ سمندر تھامتے ایک اس خاطر تجھے اے چشم تر رکھا گیا حاصل جاں پر خس و خاشاک حسرت کھینچ کر درمیاں اس دل کے خواہش کا شرر رکھا ...

مزید پڑھیے

روشنی رنگوں میں سمٹا ہوا دھوکا ہی نہ ہو

روشنی رنگوں میں سمٹا ہوا دھوکا ہی نہ ہو میں جسے جسم سمجھتا ہوں وہ سایا ہی نہ ہو آئینہ ٹوٹ گیا چنتا ہوں ریزہ ریزہ اسی آئینے میں میرا کہیں چہرہ ہی نہ ہو میں تو دیوار کے اس پار رواں ہوں کب سے کوئی دیوار کے اس پار بھی چلتا ہی نہ ہو وہ جو سنتا ہے مری بات بڑے غور کے ساتھ بعد جانے کے مرے ...

مزید پڑھیے

حصار ہوش میں خوابوں کے در رکھے گئے ہیں

حصار ہوش میں خوابوں کے در رکھے گئے ہیں کوئی رستہ نہیں ہے اور سفر رکھے گئے ہیں گہر آتا ہے آغوش صدف میں بوند بن کر زمین و آسماں میں نامہ بر رکھے گئے ہیں بسنتی دھوپ آنگن میں سمٹ کر سو رہی ہے ہوا کے دوش پر پیڑوں کے سر رکھے گئے ہیں ازل سے بھاگتا ہوں اپنے ہی سائے کے پیچھے تعاقب میں مرے ...

مزید پڑھیے

شہر غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں

شہر غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں ایک اندیشۂ شبخوں ہے کہ سب جاگتے ہیں شاید اب ختم ہوا چاہتا ہے عہد سکوت حرف اعجاز کی تاثیر سے لب جاگتے ہیں راہ گم کردۂ منزل ہیں کہ منزل کا سراغ کچھ ستارے جو سر قریۂ شب جاگتے ہیں عکس ان آنکھوں سے وہ محو ہوئے جو اب تک خواب کی مثل پس چشم طلب ...

مزید پڑھیے

چمکے دوری میں کچھ عکس نشانوں کے

چمکے دوری میں کچھ عکس نشانوں کے تیری آنکھ میں خواب جمیل جہانوں کے اترے آنکھ میں حرف سنہرے منظر کے جاگے دل میں شوق بسیط اڑانوں کے کھلے ہوئے دروازے شہر کی آنکھیں ہیں جن میں بھید کئی مہجور زمانوں کے کب بن باس کٹے اس شہر کے لوگوں کا قفل کھلیں کب جانے بند مکانوں کے ایک فصیل کھنچی ...

مزید پڑھیے

یوں اہتمام رد سحر کر دیا گیا

یوں اہتمام رد سحر کر دیا گیا ہر روشنی کو شہر بدر کر دیا گیا اپنے گھروں کے سکھ سے بھی روکش دکھائی دیں لوگوں کو مبتلائے سفر کر دیا گیا جینا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں رہا جینے کو ایک کار ہنر کر دیا گیا چہروں سے رنگ ہاتھ سے آئینے چھین کر بے چہرگی کو رخت نظر کر دیا گیا اب جسم و جاں پہ ...

مزید پڑھیے

اک راز دل ربا کو بیاں ہونا ہے ابھی

اک راز دل ربا کو بیاں ہونا ہے ابھی حرف و صدا کو شعلہ بجاں ہونا ہے ابھی جاگی ہے دل میں شہد شہادت کی آرزو راہ وفا کا سنگ نشاں ہونا ہے ابھی روکا ہوا ہے تم نے ہواؤں کو کس لیے اس راکھ میں شرر کا گماں ہونا ہے ابھی سانسیں شبوں کی جاں کی طنابیں اکھڑ گئیں اگلے سفر پہ ہم کو رواں ہونا ہے ...

مزید پڑھیے

پس آئنہ خد و خال میں کوئی اور تھا

پس آئنہ خد و خال میں کوئی اور تھا کوئی سامنے تھا خیال میں کوئی اور تھا جو دنوں کے دشت میں چل رہا تھا وہ میں نہ تھا جو دھڑکتا تھا مہ و سال میں کوئی اور تھا کوئی اور تھا مرے ساتھ دور عروج میں مرے ساتھ عہد زوال میں کوئی اور تھا جسے صید کرنا تھا دام میں وہ چلا گیا وہ جو رہ گیا ترے جال ...

مزید پڑھیے

عجب خجالت جاں ہے نظر تک آئی ہوئی

عجب خجالت جاں ہے نظر تک آئی ہوئی کہ جیسے زخم کی تقریب رو نمائی ہوئی نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی برون خاک فقط چند ٹھیکرے ہیں مگر یہاں سے شہر ملیں گے اگر کھدائی ہوئی خبر نہیں ہے کہ تو بھی وہاں ملے نہ ملے اگر کبھی مرے دل تک مری رسائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1137 سے 6203