قومی زبان

پل بھر کا بہشت

ایک وہ پل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں جگنو بن کر دھڑک رہا ہے اس کی خاطر ہم عمروں کی نیندیں کاٹتے رہتے ہیں یہ وہ پل ہے جس کو چھو کر تم دنیا کی سب سے دل کش لذت سے لبریز اک عورت بن جاتی ہو اور میں ایک بہادر مرد ہم دونوں آدم اور حوا پل کے بہشت میں رہتے ہیں اور پھر تم وہی ڈری ڈری سی بسوں پہ ...

مزید پڑھیے

میری تاریخ کا لنڈا بازار

ساری دکانیں اک اک کر کے گھوم آیا ہوں لیکن اب تک ننگا ہوں سارے سورما شاید میرے قد سے بہت بڑے تھے ان کے کپڑے میرے جسم پہ جانے کیسے فٹ آئیں گے ایسی ایسی ہیبت ناک ذرہ بکتر میں چھپ کر میں شاید گم ہو جاؤں اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے شاید میرے قد کا ...

مزید پڑھیے

ایک وجودی دوست کے نام

تم نے جتنے بھی بدلے تھے اپنے آپ سے اور پھر اپنے جیسوں سے اک اک کر کے پورے دل سے چکا بھی لیے ہیں اپنے آپ سے گتھم گتھا ہونے میں ہی سب جنگوں کی لذت ہے لذت، جس کا شاید کچھ بھی خرچ نہیں ہے اور یہ جنگ کہ جس میں کچھ ایسی نظموں کا مال غنیمت مل جاتا ہے جس پر اچھی خاصی عمر گزر جاتی ہے لیکن ...

مزید پڑھیے

نیند سے جاگی ہوئی آنکھوں کو اندھا کر دیا

نیند سے جاگی ہوئی آنکھوں کو اندھا کر دیا دھند نے شفاف آئینوں کو دھندلا کر دیا جوڑتا رہتا ہوں ٹوٹے رابطوں کا فاصلہ مجھ کو لمحوں کے سرابوں نے اکیلا کر دیا چیختا پھرتا ہے سڑکوں پر صداؤں کا ہجوم کس خموشی نے گلی کوچوں کو بہرا کر دیا ہر صدا ٹکرا کے بے حس خامشی سے گر پڑی ہر صدا نے ...

مزید پڑھیے

سر جھکا لیتا تھا پہلے جس کو اکثر دیکھ کر

سر جھکا لیتا تھا پہلے جس کو اکثر دیکھ کر آج پاگل ہو گیا اس کو برابر دیکھ کر خواہشوں میں بہہ گیا کمزور مٹی کا حصار جسم قطرے میں سمٹ آیا سمندر دیکھ کر سوچتا ہوں رات کے اندھے سفر کے موڑ پر چاند گھبرایا تو ہوگا خالی بستر دیکھ کر آنکھ کھلتے ہی ہر اک لمحے میں میرا عکس تھا میں بکھر ...

مزید پڑھیے

وہی زمین وہی سر پہ آسماں نکلا

وہی زمین وہی سر پہ آسماں نکلا سفر کے پار بھی اک دشت رائیگاں نکلا جو اس کو دیکھا تو تصویر بن گئیں آنکھیں یہ جاگتا ہوا پل خواب بے کراں نکلا رواں تھے ہم تو سفر پر چراغ ہوش لیے مگر ثبات جہاں کار ناگہاں نکلا اڑی قبائے سکندر غبار نسیاں میں طلوع ساغر جم شعلۂ گماں نکلا کہیں تھا شور ...

مزید پڑھیے

بے دلی میں بھی دل بڑا رکھنا

بے دلی میں بھی دل بڑا رکھنا یہ دریچہ سدا کھلا رکھنا رات کے سحر میں ہے سارا نگر اپنے گھر کا دیا جلا رکھنا یہ گھڑی صبر آزما ہوگی زندہ رہنے کا حوصلہ رکھنا ساری خوشیاں وفا نہیں کرتیں درد سے دل کو آشنا رکھنا بھول کر بھی نہ دل پہ میل آئے آئنہ یہ سدا دھلا رکھنا سینچ کر خوں سے ایک اک ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے پرے نیند کی رفتار میں رہنا

آنکھوں سے پرے نیند کی رفتار میں رہنا ہر پل کسی نادید کے دیدار میں رہنا کھو جانا اسے دیکھ کے عریاں کے سفر میں چھوتے ہی اسے ھجلہ اسرار میں رہنا اک خواب دریدہ کو رگ حرف سے سینا پھر لے کے اسے کوچہ و بازار میں رہنا خود اپنے کو ہی دیکھ کے حیران سا ہونا نرگس کی طرح موسم بیمار میں ...

مزید پڑھیے

مرنے کا پتہ دے مرے جینے کا پتہ دے

مرنے کا پتہ دے مرے جینے کا پتہ دے اے بے خبری کچھ مرے ہونے کا پتہ دے اک دوسرے کی آہٹوں پہ چلتے ہیں سب لوگ ہے کوئی یہاں جو مجھے رستے کا پتہ دے خود آپ سے بچھڑا ہوں میں اس اندھے سفر میں اے تیرگی شب مرے سائے کا پتہ دے اس آس پہ ہر آئینے کو جوڑ رہا ہوں شاید کوئی ریزہ مرے چہرے کا پتہ ...

مزید پڑھیے

دشت میں ہے ایک نقش رہ گزر سب سے الگ

دشت میں ہے ایک نقش رہ گزر سب سے الگ ہم میں ہے شاید کوئی محو سفر سب سے الگ چلتے چلتے وہ بھی آخر بھیڑ میں گم ہو گیا وہ جو ہر صورت میں آتا تھا نظر سب سے الگ سب کی اپنی منزلیں تھیں سب کے اپنے راستے ایک آوارہ پھرے ہم در بدر سب سے الگ ہے رہ و رسم زمانہ پردۂ بیگانگی درمیاں رہتا ہوں میں سب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1136 سے 6203