یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا
یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا روئے زمیں پر منظر ایسا پھر نہیں ہوگا زرد گلاب اور آئینوں کو چاہنے والی ایسی دھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہوگا گھائل پنچھی تیری کنج میں آن گرا ہے اس پنچھی کا دوسرا پھیرا پھر نہیں ہوگا میں نے خود کو جمع کیا پچیس برس میں یہ سامان تو مجھ سے یکجا ...