قومی زبان

بر سر ریگ رواں پھول نہیں کھل سکتے

بر سر ریگ رواں پھول نہیں کھل سکتے دشت ہے دشت یہاں پھول نہیں کھل سکتے بارور ہوگی دعا جب اسے منظور ہوا وقت سے پہلے یہاں پھول نہیں کھل سکتے میں نے اس دل کا نہاں خانہ دکھایا اس کو اس نے پوچھا تھا کہاں پھول نہیں کھل سکتے وہ جہاں چاہے وہاں رنگ بچھا دے اپنے اس کی نظروں سے نہاں پھول ...

مزید پڑھیے

انّا للٰہ و انّا الیہ راجعون

ایک مردہ تھا جسے میں خود اکیلا اپنے کندھوں پر اٹھائے آج آخر دفن کر کے آ گیا ہوں بوجھ بھاری تھا مگر اپنی رہائی کے لیے بے حد ضروری تھا کہ اپنے آپ ہی اس کو اٹھاؤں اور گھر سے دور جا کر دفن کر دوں یہ حقیقت تھی کہ کوئی واہمہ تھا پر یہ بدبو دار لاشہ صرف مجھ کو ہی نظر آتا تھا، جیسے ایک ...

مزید پڑھیے

وصال

میں نے کل شب آسماں کو گرتے دیکھا اور سوچا اب زمیں اور آسماں شاید ملیں گے رات گزری اور شفق پھولی تو میں نے چڑھتے سورج کی کلائی تھام کر اس سے کہا بھائی رکو تم دو قدم آگے بڑھے تو آسماں شاید گرے گا خشمگیں نظروں سے مجھ کو دیکھ کر سورج نے آنکھیں پھیر لیں دھیرے سے بولا آسماں ہر رات گرتا ...

مزید پڑھیے

سانپ کو مت جگا

سانپ سویا ہوا ہے بڑی دیر سے سردیوں کی اندھیری پٹاری میں کنڈل سا لپٹا ہوا اپنی اکلوتی بند آنکھ کھولے ہوئے پچھلی رت کے کسی بین کے سر سے سرشار پھن کو اٹھانے کے خوابوں سے دو چار ہے سانپ کو مت جگا، اے شکھنڈی ٹھہر سانپ ایک بار بیدار ہو کر اٹھا تو وہ عادت سے مجبور پھن کو اٹھائے ہوئے آنے ...

مزید پڑھیے

اگلا سفر طویل نہیں

وہ دن بھی آئے ہیں اس کی سیاہ زلفوں میں کپاس کھلنے لگی ہے، جھلکتی چاندی کے کشیدہ تار چمکنے لگے ہیں بالوں میں وہ دن بھی آئے ہیں سرخ و سپید گالوں میں دھنک کا کھیلنا ممنوع ہے، لبوں پہ فقط گلوں کی تازگی اک سایۂ گریزاں ہے وہ بھی دن آئے ہیں اس کے صبیح چہرے پر کہیں کہیں کوئی سلوٹ ابھر سی ...

مزید پڑھیے

شعور ذات نے بیدار کر دیا مجھ کو

شعور ذات نے بیدار کر دیا مجھ کو بدن کو چاٹ کے مسمار کر دیا مجھ کو سبھی درخت کشادہ تھے بازووں کی طرح عجیب راہ تھی سرشار کر دیا مجھ کو پھر ایک خواب نے دستک کا باب بند کیا اور ایک نیند میں بیدار کر دیا مجھ کو نظر کے سامنے اک نیلگوں سمندر تھا بس ایک موج تھی کہ پار کر دیا مجھ کو میں ...

مزید پڑھیے

نیا فسوں ہی دکھائیں کوئی زمانے میں

نیا فسوں ہی دکھائیں کوئی زمانے میں چراغ مجھ میں جلیں میں چراغ خانے میں دھواں دھواں سی فضا سے گزرنے والے لوگ عجیب شغل کے مالک ہیں آشیانے میں میں اختلاف نہیں کر رہا مگر مجھ کو نظر نہ آیا کوئی دیدہ ور زمانے میں غبار راہ سے نکلے گا شہسوار خیال اسے بھی شامل کردار رکھ فسانے میں خود ...

مزید پڑھیے

خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا گیا ہوں

خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا گیا ہوں یہ کس عذاب سے دو چار کر دیا گیا ہوں وہ چشم تھی اسے بینائی لے گئی اپنی میں آئنہ تھا سو زنگار کر دیا گیا ہوں میں ایک راز تھا مخفی تھا خاک میں اپنے ابھی ابھی ہی میں اظہار کر دیا گیا ہوں وہ دن بھی دور نہیں دوست یہ کہیں گے میاں کہ میں تو اور بھی ...

مزید پڑھیے

شعور ذات نے بیدار کر دیا مجھ کو

شعور ذات نے بیدار کر دیا مجھ کو بدن کو چاٹ کر مسمار کر دیا مجھ کو سبھی درخت کشادہ تھے بازووں کی طرح عجیب راہ تھی سرشار کر دیا مجھ کو پھر ایک خواب نے دستک کا باب بند کیا اور ایک نیند میں بیدار کر دیا مجھ کو نظر کے سامنے اک نیلگوں سمندر تھا بس ایک موج تھی کہ پار کر دیا مجھ کو میں ...

مزید پڑھیے

رنگ خوابیدہ میں جادو کے علاوہ تم ہو

رنگ خوابیدہ میں جادو کے علاوہ تم ہو دل میں رکھی ہوئی خوشبو کے علاوہ تم ہو دور تک پھیلی ہوئی راہ مجھے کھینچتی ہے اور اس راہ پہ جگنو کے علاوہ تم ہو میری آنکھوں سے نہیں دل سے نمو پاتی ہوئی شاخ احساس من و تو کے علاوہ تم ہو سرمئی دھوپ ہے دریا ہے کنارے ہیں میاں موج در موج اس آنسو کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1115 سے 6203