قومی زبان

مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا

مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا نیا اک کارواں گرد رہ منزل سے نکلے گا ہمارے منہ سے اور شکوہ تمہارا ہو نہیں سکتا تمہارا نام بھی شاید بڑی مشکل سے نکلے گا نہ ہوگا گوشۂ دامن مرا وابستۂ منزل نہ جب تک ہاتھ تیرا پردۂ منزل سے نکلے گا مری آنکھیں ہیں بزم رنگ و بو میں منتظر تیری نہیں ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں سر تا بہ پا تمنا (ردیف .. ٰ)

ہم ہیں سر تا بہ پا تمنا کیسی امید کیا تمنا ہو کتنی ہی خوش گوار پھر بھی ہے دل کے لیے بلا تمنا دیتے ہو پیام آرزو تم جب ترک میں کر چکا تمنا دنیا کو فریب دے رہی ہے جلوہ ہے سراب کا تمنا اپنی منزل پہ ہم نہ پہنچے جب تک رہی رہنما تمنا مابین نگاہ و جلوۂ حسن ہے ایک حجاب سا تمنا الجھا ...

مزید پڑھیے

عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیں

عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیں مسلک اہل وفا ضبط ہے فریاد نہیں حاصل عشق بجز خاطر ناشاد نہیں یہ غنیمت ہے کہ محنت مری برباد نہیں اے مری قید تمنا کے بڑھانے والے غیر محدود ترے حسن کی میعاد نہیں بزم افسانہ کرو ختم جوانی گزری قابل ذکر اب آگے کوئی روداد نہیں موت ہے روح کی معراج تو ...

مزید پڑھیے

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے قفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہے کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے سحر تک سعیٔ نالہ رائیگاں معلوم ہوتی ہے یہ دنیا تو بقدر یک فغاں معلوم ہوتی ہے کسی کے دل میں گنجائش نہیں وہ بار ہستی ہوں لحد کو ...

مزید پڑھیے

ادراک خود آشنا نہیں ہے

ادراک خود آشنا نہیں ہے ورنہ انساں میں کیا نہیں ہے کیا ڈھونڈھنے جاؤں میں کسی کو اپنا مجھے خود پتا نہیں ہے کیوں جام شراب ناب مانگوں ساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے حسن اور نوازش محبت ایسا تو کبھی ہوا نہیں ہے سیمابؔ چمن میں جوش گل سے گنجائش نقش پا نہیں ہے

مزید پڑھیے

نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے

نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے ہم آج اپنی شب غم کی غلط سامانیاں سمجھے بڑی مشکل سے ان کا راز الفت ہو سکا پنہاں بڑی مدت میں جا کر ہم مزاج راز داں سمجھے اب آیا ہے تو بیٹھے چارہ گر خاموش بالیں پر مری بے چینیاں دیکھے مری بے تابیاں سمجھے پیام شادمانی کیا سمجھ کر دے کوئی اس ...

مزید پڑھیے

عشق خود مائل حجاب ہے آج

عشق خود مائل حجاب ہے آج حسن مجبور اضطراب ہے آج مے کدہ غم کدہ ہے تیرے بغیر سرنگوں شیشۂ شراب ہے آج متغیر ہے عالم جذبات کون اس دل میں باریاب ہے آج زندگی جس میں سانس لیتی تھی وہ زمانہ خیال و خواب ہے آج مٹ گئے دل کے ولولے سیمابؔ ختم افسانۂ شباب ہے آج

مزید پڑھیے

آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریں

آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریں طور کی مٹی سے تخلیق ید بیضا کریں حسن میں ہو عشق کی بو عشق میں ہو رنگ حسن پھر مرتب رنگ و بوئے نو سے اک دنیا کریں جتنے نغمے ہو چکے ہیں گم فضائے دہر میں ان کو پھر آواز دیں اک ساز میں یکجا کریں مل چکے ہیں خاک میں جو ٹوٹ کر پھولوں کے جام ان کو دست شاخ ...

مزید پڑھیے

روز فراق ہر طرف اک انتشار تھا

روز فراق ہر طرف اک انتشار تھا میں بے قرار تھا تو جہاں بیقرار تھا نقش طلسم میرا دل داغدار تھا تھا دن کو پھول رات کو شمع مزار تھا یادش بخیر یاد ہیں دل کی مصیبتیں پہلو میں اک ستم زدۂ روزگار تھا اللہ رے شام غم مرے دل کی شکستگی تاروں کا ٹوٹنا بھی مجھے ناگوار تھا وحشت طراز تھی کشش ...

مزید پڑھیے

آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر

آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر کائنات اک محشر خاموش ہے تیرے بغیر آ کہ پھر دل میں نہیں اٹھتی کوئی موج نشاط سرد پانی بادۂ سر جوش ہے تیرے بغیر نیند آ آ کر اچٹ جاتی ہے تیری یاد میں تار بستر نشتر آغوش ہے تیرے بغیر جلوۂ ہر روز جو ہر صبح کی قسمت میں تھا اب وہ اک دھندلا سا خواب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1100 سے 6203