قومی زبان

زندان کائنات میں محصور کر دیا

زندان کائنات میں محصور کر دیا محفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیا آتے ہو دینے دعوت دار و رسن ہمیں جب ہم نے ترک شیوۂ منصور کر دیا فطرت یہی ازل سے ہے برق جمال کی اس نے جسے تباہ کیا طور کر دیا تم نے ہمارے ظرف نظر پر نہ کی نگاہ سارے جہاں کو حسن سے معمور کر دیا سیمابؔ کوئی مرتبہ منصور ...

مزید پڑھیے

وطن کی لگن

ہند میرا چمن اس میں ہوں میں مگن ہے اسی کی لگن راحت جان و تن میرا پیارا وطن میری عزت ہے یہ میری دولت ہے یہ میری عظمت ہے یہ میری جنت ہے یہ میرا پیارا وطن ہند کی خاک سے پھول کیا کیا اگے لال پیلے ہرے مستیوں میں بسے میرا پیارا وطن اس کے دریا بڑے تازگی سے بھرے باغ پھولے پھلے لہلہاتے ...

مزید پڑھیے

بلبل اور گلاب

بلبل اے رنگ بھرے گلاب کے پھول اس شان اس آب و تاب کے پھول دلچسپ بہت ہیں رنگ تیرے ہیں مجھ کو پسند ڈھنگ تیرے کھلتا ہے جو تو اس انجمن میں لگتی ہے اک آگ سی چمن میں کیا یہ اثر ہے پنکھڑی میں کیسی ہے چٹک کلی کلی میں کس نے تجھے اسقدر سجایا کس نے تجھے باغ میں کھلایا کیوں تجھ میں ہے دل کشی ...

مزید پڑھیے

شری کرشن

ہوا طلوع ستاروں کی دل کشی لے کر سرور آنکھ میں نظروں میں زندگی لے کر خودی کے ہوش اڑانے بصد نیاز آیا نئے پیالوں میں صہبائے بے خودی لے کر فضائے دہر میں گاتا پھرا وہ پریت کے گیت نشاط خیز و سکوں ریز بانسری لے کر جہان قلب سراپا گداز بن ہی گیا ہر ایک ذرہ محبت کا ساز بن ہی گیا جمال و حسن ...

مزید پڑھیے

بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے

بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے مکمل قید غربت ہو رہی ہے میں خود ترک تعلق پر ہوں مجبور کچھ ایسی ہی طبیعت ہو رہی ہے جفا ان کی دل زود آشنا پر بہ مقدار محبت ہو رہی ہے خدا سے مل گیا ہے حسن کافر خدائی پر حکومت ہو رہی ہے نہیں تنہائی زنداں مکمل مجھے سایہ سے وحشت ہو رہی ہے یہ تم ہنس ہنس کے ...

مزید پڑھیے

دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے

دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے یہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائے مدت سے یہی پردہ یہی پردہ دری ہے ہو کوئی تو پردہ سے نمودار نہ ہو جائے مجھ سے مرا افسانۂ ماضی نہ سنو تم افسانہ نیا پھر کوئی تیار نہ ہو جائے اے مستئ الفت سبق کفر دیئے جا جب تک مجھے ہر چیز سے انکار نہ ہو ...

مزید پڑھیے

جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے

جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے چمن میں رات بھر بنتی ہے اور دن بھر برستی ہے نگاہ عشق و چشم حسن دو ساون کے بادل ہے یہ جب ملتے ہیں دل پر ایک بجلی سی برستی ہے اگر ہے زندگی منظور بے سوچے فنا ہو جا مذاق عاشقی میں نیستی کا نام ہستی ہے یکایک پھر چراغ امید کے ہونے لگے روشن یہ صبح ...

مزید پڑھیے

رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہو

رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہو یعنی اثر نہ ہو تو فریب اثر تو ہو ہم بھی تمہاری بزم میں ہیں درخور کرم اچھا وہ مستقل نہ سہی اک نظر تو ہو کیا فرض ہے کہ ہم نہ ہوں تقدیر آزما دنیا پڑی ہوئی ہے در یار پر تو ہو سب کہہ رہے ہیں ہم پہ گراں ہے شب فراق اس کا بھی کچھ علاج کریں گے سحر تو ...

مزید پڑھیے

یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہے

یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہے ذروں کو اٹھانا ہے تاروں سے ملانا ہے آغوش تصور ہے اور نقش جمیل ان کا دوری ہے نہ مجبوری آنا ہے نہ جانا ہے نیرنگ محبت ہے ہر راز مرے دل کا چپ ہوں تو حقیقت ہے کہہ دوں تو فسانا ہے ارمان تجلی کا کوتاہ بھی کر قصہ اے دوست تجھے آخر اک دن نظر آنا ہے کیا شعبدہ ...

مزید پڑھیے

جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر

جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر حقیقت تیری کیا ہے پہلے یہ پہچان پیدا کر جہاں جانے کو سب دشوار ہی دشوار کہتے ہیں وہاں جانے کا کوئی راستہ آسان پیدا کر حقیقت کا کہے جو حال کر ایسی زباں پیدا محبت کے سنیں جو گیت ایسے کان پیدا کر حدود عالم تکویں میں سب ممکن ہی ممکن ہے تو نا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1099 سے 6203