قومی زبان

ٹوٹ کے بادل پھر برسا ہے

ٹوٹ کے بادل پھر برسا ہے ہائے وہ جس کا گھر کچا ہے کیوں نہیں اٹھتے پاؤں ہمارے جب یہ رستہ گھر ہی کا ہے میں نے بھی کچھ حال نہ پوچھا وہ بھی کچھ چپ چپ سا رہا ہے منزل منزل دیپ جلے ہیں پھر بھی کتنا اندھیارا ہے دل میں اٹھا کر رکھ لیتا ہوں پاؤں میں جو کانٹا چبھتا ہے اب تو یہ بھی بھول گیا ...

مزید پڑھیے

تبصرہ یوں نہ مرے حال پہ اتنا ہوتا

تبصرہ یوں نہ مرے حال پہ اتنا ہوتا اس کو نزدیک سے دنیا نے جو دیکھا ہوتا کوئی مرتے ہوئے لمحوں کا مسیحا ہوتا کرب تنہائی کا احساس نہ اتنا ہوتا یہ جو آہٹ کی طرح ساتھ مرے رہتا ہے بن کے تصویر کبھی سامنے آیا ہوتا دے گیا جو مجھے تپتے ہوئے لمحوں کا گداز کاش وہ درد مرے واسطے تنہا ...

مزید پڑھیے

ہر سانس میں ہے صریر خامہ (ردیف .. ن)

ہر سانس میں ہے صریر خامہ میں خود کو ہر آن لکھ رہا ہوں کم ذائقہ آشنا ہیں جس کے ایک ایسی زبان لکھ رہا ہوں پتھر ہیں تمام لفظ لیکن میں پھول سمان لکھ رہا ہوں روشن ہے یقیں کی روشنائی یا اپنے گمان لکھ رہا ہوں ان دست بریدہ موسموں میں اللہ کی شان لکھ رہا ہوں دیوار چٹخ رہی ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

میرے پیار کا قصہ تو ہر بستی میں مشہور ہے چاند

میرے پیار کا قصہ تو ہر بستی میں مشہور ہے چاند تو کس دھن میں غلطاں پیچاں کس نشے میں چور ہے چاند تیری خندہ پیشانی میں کب تک فرق نہ آئے گا تو صدیوں سے اہل زمیں کی خدمت پر مامور ہے چاند اہل نظر ہنس ہنس کر تجھ کو ماہ کامل کہتے ہیں! تیرے دل کا داغ تجھی پر طنز ہے اور بھرپور ہے چاند تیرے ...

مزید پڑھیے

ہر آن ایک نیا امتحان سر پر ہے

ہر آن ایک نیا امتحان سر پر ہے زمین زیر قدم آسمان سر پر ہے دہائی دیتی ہیں کیسی ہری بھری فصلیں کسی غنیم کی صورت لگان سر پر ہے میں خاندان کے سر پر ہوں بادلوں کی مثال سو بجلیوں کی طرح خاندان سر پر ہے قدم جماؤں تو دھنستے ہیں ریگ سرخ میں پاؤں جو سر اٹھاؤں تو نیلی چٹان سر پر ہے میں ...

مزید پڑھیے

نیا کلنڈر

فروری پھولوں کی گاڑی پہ سوار آتی ہے مارچ آتا ہے تو باغوں میں بہار آتی ہے ہم نے بلا جو گھمایا تو کئی بھاگ لیے ایک چوکے ہی میں اپریل مئی بھاگ لیے تیز گرمی نے پسینے میں نہایا ہم کو جون جولائی نے دو ماہ ستایا ہم کو یہ خبر لے کے اگست اور ستمبر آئے امتحانوں میں بڑی شان کے نمبر آئے یاد ...

مزید پڑھیے

چاٹ کا دونا

یہ چینی کی گڑیا ہے یا ظالم بس کی پڑیا یہ بد صورت گڈا ہے یا یورپ دیس کا بونا ہم بھی ایک کھلونا یارو تم بھی ایک کھلونا ٹینک کو دیکھو رینگ رہا ہے کیسا فٹ فٹ فٹ فٹ اونٹ کو دیکھو دوڑ رہا ہے کیسا اونا پونا ہم بھی ایک کھلونا یارو تم بھی ایک کھلونا مرغا ککڑوں کوں کرتا ہے مرغی کٹ کٹ کٹ کٹ چور ...

مزید پڑھیے

ننھا سیاح

میں ہوں اک ننھا سیاح میں ہوں اک ننھا سیاح کشتی لے کر لنگر لے کر کشتی بیچ سمندر لے کر میں گھوموں گا دنیا دنیا لندن پیرس قسطنطنیہ سیر کروں گا دھیرے دھیرے میں ڈھونڈوں گا نئے جزیرے میں ہوں اک ننھا سیاح میں ہوں اک ننھا سیاح مجھ میں ہے کافی بل بوتا میں ہوں ننھا ابن بطوطہ میں پاکستانی ...

مزید پڑھیے

لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار

لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار میں گھر جلتا چھوڑ آیا ہوں دریا کے اس پار کس کی روح تعاقب میں ہے سائے کے مانند آتی ہے نزدیک سے اکثر خوشبو کی جھنکار تیرے سامنے بیٹھا ہوں آنکھوں میں اشک لیے میرے تیرے بیچ ہو جیسے شیشے کی دیوار میرے باہر اتنی ہی مربوط ہے بے ربطی میرے اندر ...

مزید پڑھیے

ڈھلتا سورج آنکھ کا ریزہ ہو جاتا ہے

ڈھلتا سورج آنکھ کا ریزہ ہو جاتا ہے جھوٹے خوابوں کا آمیزہ ہو جاتا ہے اپنے فقروں سے ہشیار کہ فقرہ اکثر دشمن کے ہاتھوں کا نیزہ ہو جاتا ہے پہلے شیشہ ٹوٹ کے خنجر بن جاتا تھا لیکن اب تو ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے حسن کی سنگت پھول کی رنگت سے مس ہو کر شبنم کا آنسو آویزہ ہو جاتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1054 سے 6203