اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے
اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے قید کا ساماں کیا اور اس کو گھر کہنے لگے درج ہے تاریخ وصل و ہجر اک اک شاخ پر بات جو ہم تم نہ کہہ پائے شجر کہنے لگے خوف تنہائی دکھاتا تھا عجب شکلیں سو ہم اپنے سائے ہی کو اپنا ہم سفر کہنے لگے بستیوں کو بانٹنے والا جو خط کھینچا گیا خط کشیدہ لوگ ...